The news is by your side.

Advertisement

رانا ثناء اللہ نے ضمانت پر رہائی کیلئے انسداد منشیات عدالت سے رجوع کرلیا

لاہور : منشیات برآمدگی کیس میں سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے ضمانت پر رہائی کے لئے انسداد منشیات عدالت سے رجوع کرلیا اور کہا کہ  منشیات برآمدگی کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، وقوعہ کی ایف آئی آر تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمہ کو مشکوک ثابت کرتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے  ضمانت پر رہائی کے لئے انسداد منشیات عدالت میں درخواست دائر کردی ، رانا ثناء اللہ نے ضمانت کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کے بعد تمام مقدمہ جعلی ثابت ہوتا ہے ،عدالت سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ کا جائزہ لے۔

درخواست میں کہا گیا کہ حکومت پر تنقید کرنے پر میرے خلاف سیاسی کاروائی کی گئی اورمنشیات برآمدگی کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا،وقوعہ کی ایف آئی آر تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمہ کو مشکوک ثابت کرتی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

خیال رہے انسداد منشیات کی عدالت نے دیگرنکات کی بنیاد پر پہلی بار درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جبکہ رانا ثناء اللہ نے ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کر کے واپس لے لی تھی۔

مزید پڑھیں : رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع

یاد رہے 2 نومبر کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار سابق صوبائی وزیر راناثنااللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کردی تھی۔

واضح رہے رواں سال یکم جولائی کو پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے حراست میں لیا تھا، اے این ایف مطابق فیصل آباد کے قریب ایک خفیہ کارروائی کے دوران گاڑی سے بھاری مقدارمیں منشیات برآمد کی گئی تھی، گاڑی سے برآمد منشیات میں ہیروئن شامل تھی۔

اے این ایف ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک گرفتار اسمگلر نے دوران تفتیش رانا ثنا اللہ کی جانب سے منشیات اسمگلنگ میں معاونت کا انکشاف کیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں