اسلام آباد (10 دسمبر 2025): وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کرنے کا اشارہ دے دیا۔
اے آر رائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خانم کی بھائی سے ہونے والی حالیہ ملاقات کا ذکر کیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کو معلوم ہے ملاقات کیوں بند ہے اور یہ بھی جانتے ہیں ملاقات کیسے ہو سکتی ہے، عظمیٰ خانم کو ملاقات سے پہلے کہا گیا تھا پیغام رسانی کا کام نہ کریں تاکہ باقی بھی ملاقات کر سکیں گے، عظمیٰ خانم کی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا عمران خان کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور
’عظمیٰ خانم سے ملاقات میں عمران خان نے ان کا حال تک نہ پوچھا اور اپنا پیغام شروع کیا۔ وہ بانی پی ٹی آئی کا پورا پیغام پہنچاتیں تو شائد اور زیادہ آگ لگتی، ان کو جتنا یاد رہا انہوں نے 60 فیصد تک پیغام جیل کے باہر پہنچایا۔‘
وزیر اعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ یہ روز اڈیالہ روڈ پر تماشا لگاتے ہیں اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صورتحال سے نمٹنے کیلیے حکومت بانی پی ٹی آئی کو کہیں اور بھی منتقل کر سکتی ہے، فی الحال انہیں منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا لیکن غور جاری ہے، اگر فیصلہ ہوا تو صورتحال سے نمٹنے کیلیے اقدامات بھی ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کیا سہولیات دی جا رہی ہیں یہ دیکھنے کیلیے تجویز پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کی تھی، میں نے کہا تھا کہ میری معلومات کے مطابق ان کا ناشتا، لنچ اور ڈنر ان کی مرضی سے بنتا ہے، ان کا کھانا باقاعدہ چیک ہوتا ہے اور پھر وہ کھاتے ہیں، انہیں ورزش، اخبار اور دیگر سہولتیں میسر ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سینیٹ کی کارروائی ریکارڈ ہوتی ہے میرا مؤقف اس میں موجود ہے، فائیو اسٹار سہولیات کی بات میں نے تو کبھی نہیں کی، عدالتی احکامات اور جیل مینوئل کے مطابق بانی پی ٹی آئی تمام سہولیات مل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی مذاکرات کی بات یکطرفہ ہی رہی دوسری طرف سے کوئی ردعمل نہیں تھا، آج بھی دونوں طرف سے مذاکرات کے معاملات پر ڈیڈ لاک ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


