جمعہ, فروری 13, 2026
اشتہار

پانی چوری کے طعنے پر جواب دینا وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری ہے، رانا ثنا اللہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (30 ستمبر 2025): وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پانی چوری کے طعنے پر جواب دینا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ذمہ داری ہے۔

رانا ثنا اللہ نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مریم نواز نے فیصل آباد میں جو بات کی وہ ان کا بطور وزیر اعلیٰ مؤقف ہے، انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کی ہے اور نہ ہی کسی کو کوئی جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا صوبے کے پانی سے متعلق مؤقف ہے، پنجاب کو پانی چوری کا کہا جائے گا تو جس نے مؤقف دینا تھا وہ دیا ہے، ان کی ذمہ داری ہے وہ مؤقف سامنے رکھیں، تمام صوبوں کو اپنے وسائل میں اپنے عوام کی خدمت کرنی چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 10 ہزار روپے دیے جاتے ہیں اس مہنگائی میں کیا بنتا ہے؟ ہمارا مؤقف ہے پروگرام کو صوبوں کو دیا جائے جبکہ وفاق بھی اس میں اپنا حصہ ڈالے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں وفاق جو بھی ترقیاتی کام کرے وہ پہلے صوبائی حکومت کو مطلع کرے، میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ روز فیصل آباد زرعی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب اپنے صوبے کے حق میں نہریں نکالنا چاہے تو انہیں تکلیف کیوں ہو جاتی ہے؟

مریم نواز نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر تنقید کی تھی کہ مخالفین میری ذات پر بات کریں تو تنقید نہیں کروں کی لیکن پنجاب اور پنجابیوں پر بات کریں گے تو میں آپ کو نہیں چھوڑوں گی اور گھر تک پہنچا کر آوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پنجاب میں نہریں نکالوں تو انہیں تکلیف اور اعتراض ہوتا ہے، اپنے صوبے کے عوام کو 50 ارب کا ریلیف دیا تو یہ آئی ایم ایف سے میری شکایات لگا رہے ہیں، میرا پانی، میرا پیسہ اور میری مرضی، آپ کو کیا تکلیف ہے؟ آپ سندھ میں کوئی کام کریں تو مجھے بھی خوشی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ میں نے نہروں سے پانی نکال کر اپنے پاس نہیں رکھنا تھا بلکہ چولستان کو دینا تھا، انہوں نے پہلے بھی بہت اعتراض کیا میں چپ رہی لیکن پنجاب کے عوام کو ان کا حق دینے کیلیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں