عمران خان کا یہی فارمولا ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگوں کو سچ لگنےلگے،رانا ثنا اللہ
The news is by your side.

Advertisement

عمران خان کا یہی فارمولا ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگوں کو سچ لگنےلگے، رانا ثنا اللہ

لاہور : وزیرقانون رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کا یہی فارمولا ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگوں کو سچ لگنے لگے، عدلیہ اور اداروں سے تصادم کا بیانیہ نہ میاں نواز شریف کا ہے اور نہ پی ایم ایل ن کا۔

تفصیلات کے مطابق وزیرقانون رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لس عاملہ کا مؤقف ہے ہم فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے ، انتظامی معاملات پر فوری اسٹے اور نوٹس ہوجاتاہے، آئین میں اداروں کے اختیارات میں تبدیلیاں ضروری ہیں‌۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اتناجھوٹ بولوکہ لوگوں کو سچ لگنےلگے،عمران خان کایہی فارمولاہے، بار بار جھوٹ بول کر لوگوں کو سچ سمجھنے پر مجبور کیا، کنٹینر پر چڑھ کر الزامات لگائے اور بعد میں الزام لگاکربھول گئے۔

وزیرقانون نے مزید کہا کہ آج کل بھی وہ دو الزامات لگا رہے ہیں، فیصل سبحان کی فال شایدپیرنی نےنکالی ہے،جس کا میٹرو ملتان سے تعلق نہیں، ایک ٹولہ تھا جس نے منی لانڈرنگ کی، چائنا میں پکڑے جانے پر ملتان میٹرو کا نام لیا، کاغذات پنجاب حکومت کے پاس آئے توجعلی نکلے جن پرمقدمہ ہوا ،انکوائری ہوئی۔

انکا کہنا تھا کہ فیصل سبحان نامی کوئی سول آفیسریاپراجیکٹ ڈائریکٹرمنصوبوں میں نہیں تھا، جاوید صادق پر بھی اس سے پہلےالزام لگایا گیا جو جھوٹا ثابت ہوا۔

عابد باکسر کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ عابد باکسر کا الزام بھی جھوٹا ہے، عابد باکسر کے خلاف 12 مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے، ان مقدمات میں سے کوئی مقدمہ بھی پولیس انکاؤنٹر کا نہیں ہے، عابد باکسر کہتا ہے کہ میں نے پولیس مقابلے کئےجو جھوٹ ہیں۔


مزید پڑھیں :  قوم پوچھتی ہے نواز شریف کا جرم کیا ہے ، رانا ثنا اللہ


انھوں نے کہا کہ عابدباکسرپر302کے 2مقدمات ہیں، 7اےٹی اے کا ایک مقدمہ ہے، 12میں سے 7، 8 مقدمات ایسے ہیں جو ایک ہی مدعی کے ہیں، آخری مقدمہ مدعیہ غزالہ عرف نرگس کے مدعیت میں ٹاؤن شپ میں درج ہے، جو زبردستی تعلقات بنانے کا بھی الزامات لگارہی ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عابد باکسر کو بھی عمران خان کی شاگردی اختیارکرنی چاہئے، ان دونوں الزامات میں کوئی صداقت نہیں، 6مارچ کو جنرل کونسل میں صدر کے انتخاب کے بعد پنجاب کی صدارت کا فیصلہ ہوگا، کل کے اجلاس کی سب کو اطلاع دی گئی۔

چوہدری نثار کی غیر حاضری پرانھوں نےکہا کہ اطلاعات ہیں کہ وہ مصروفیات کے باعث نہیں آسکے، چوہدری نثار کو شہباز شریف ہی منا لیں گے، نواز شریف اور ن لیگ کا بیانیہ اداروں سے ٹکراؤ کا نہیں۔

وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ عدلیہ سے تصادم کی کوئی پالیسی نہیں، ایک فیصلے کے خلاف احتجاج ہوسکتا مگرعدلیہ کیخلاف نہیں، عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہے، عدلیہ کی نگرانی میں الیکشن لڑیں گے، پی سی او ججز کا فیصلہ آنےوالی پارلیمنٹ کرے گی، آئین کے تحت آمروں سے حلف لینے والوں کا احتساب ہونا چاہیئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ نواز شریف سے شادی کے دن سے حساب تولیا جاسکتا ہے، جن جن سے غلطیاں ہوئی ان کا بھی احتساب ہوناچاہئے، پارٹی بدل کرحلف لینے، آئین کا تحفظ کرنے والوں کے حلف میں فرق ہے، پارلیمنٹ اداروں کی حدودمیں تبدیلی لا کردائرہ کار مزید واضح کرے، اداروں کے آئینی حدودکا تعین اب ناگزیر ہوچکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں