ہفتہ, اکتوبر 10, 2026
اشتہار

عوام چاہیں تو صوبے بن جائیں گے، نہیں چاہیں گے تو نہیں بنیں گے، رانا ثنا اللہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عوام چاہیں تو صوبے بن جائیں گے، نہیں چاہیں گے تو نہیں بنیں گے، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام صرف اسی صورت ممکن ہے اگر عوام اور پارلیمنٹ اس کی منظوری دیں۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس فی الوقت ایسا کوئی آئینی راستہ نہیں کہ وہ ازخود ریفرنڈم کا فیصلہ کر سکے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق (6) کے تحت حکومت یا وزیرِ اعظم خود ریفرنڈم کروانے کے مجاز نہیں ہیں، کسی بھی قومی اہمیت کے معاملے پر ریفرنڈم کی منظوری صرف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ہی دی جا سکتی ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ریفرنڈم کی منظوری کے لیے بھی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، جبکہ "ہمارے پاس تو اس وقت سادہ اکثریت بھی موجود نہیں ہے، ریفرنڈم کا معاملہ نہ کابینہ میں آیا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی ابتدائی بحث شروع ہوئی ہے، مگر لوگ پہلے ہی ہلکان ہو رہے ہیں”۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا ہے کہ عوام چاہیں تو صوبے بن جائیں گے، نہیں چاہیں گے تو نہیں بنیں گے، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے۔

محسن نقوی کے حالیہ بیان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے ایک ہی سانس میں کہا تھا کہ "اگر عوام چاہیں گے”، انہوں نے وفاقی حکومت کا نہیں بلکہ اپنا ذاتی موقف دیا ہے، اسی طرح احسن اقبال نے 15 صوبوں کی تجاویز دی تھیں اور خواجہ آصف کی رائے بھی الگ ہے، ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد کو نیا انتظامی ماڈل دینے سے متعلق تجاویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن یا صوبائی اسمبلی جیسی ساخت کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں جہاں کا میئر یا چیف منسٹر منتخب ہو سکتا ہے، تاہم امن و امانکا چارج میئر کے پاس نہیں ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں میں آ کر اٹک گئے ہیں۔ صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کا نفاذ اور اختیارات یونین کونسل اور بلدیاتی اداروں تک منتقل ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں