اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ جس ڈاکٹرسے کہیں گے بانی پی ٹی آئی کاچیک اپ کرایا جائیگا، حکومت نے سپریم کورٹ میں مکمل یقین دہانی کرائی۔
تفصیلات کے مطبق وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اپوزیشن لیڈربانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بات کریں گے، سپریم کورٹ کی رپورٹ کےمطابق کچھ چیزیں سیٹل ہوچکی ہیں۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی رپورٹ کے مطابق بانی کو سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں بھی یہی بیان ملتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ 3ماہ تک بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کاعلاج نہیں کیا، 3 ماہ تک بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کاعلاج نہیں کیا گیا توپھریہ مجرمانہ غفلت ہے اور اگرحقائق کے برعکس سیاست کی گئی تویہ زیادہ مجرمانہ فعل ہوگا۔
سیاسی مشیر نے مزید کہا کہ جس ڈاکٹر سے کہیں گے بانی پی ٹی آئی کاچیک اپ کرایا جائیگا، حکومت نے سپریم کورٹ میں مکمل یقین دہانی کرائی
انھوں نے بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں بانی پی ٹی آئی نے آنکھ کی تکلیف کا بتایا، جیل ڈاکٹر کی ادویات استعمال کی گئیں، جس کا بانی نے کہا کہ ان کو فائدہ نہیں ہوا، 15 جنوری کو پمز کے ڈاکٹرز کو لیٹر لکھا گیا، 16 جنوری کو ڈاکٹرز نے معائنہ کیا، 19 جنوری کو دوبارہ 4 رکنی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ میں معائنہ کیا اور 24 جنوری کو بانی کو انجکشن لکھ کر دیا گیا،ان تفصیلات کے ڈاکیومنٹ موجود ہیں۔
رانا ثنا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست کرنا بھی غلط ہوگا، 3ماہ کی بات غلط فہمی ہے تو درست کرلیں، بانی پی ٹی آئ کاروزانہ کی بنیاد پر طبی معائنہ ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ 12 دسمبر کو ڈاکٹر عارف،ڈاکٹر سمن عارف اوردیگر 2 ڈاکٹرز نے طبی معائنہ کیا لیکن ڈاکٹرز نے آنکھ کی بیماری کا ذکر نہیں کیا، ڈاکٹر نورین سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے، 20 دسمبر کو توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ ہوا، سلمان صفدر ساتھ تھے لیکن بیماری کا ذکر نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی کی 3،4ماہ سےصحت کی خرابی کی بات درست نہیں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


