site
stats
پاکستان

عمران خان ریحام خان کے ایک انٹرویو کی مار ہیں،راناثنااللہ

لاہور : صوبائی وزیر قانون رانا ثناء نے عمران خان کے بیانات کو اداروں سے تصادم قرار دے دیا اور دعوی کیا کہ عمران خان ریحام خان کے انٹرویو کی مار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گلالئی کیس پر الیکشن کمیشن کے فیصلےکو عمران خان نے غلط کہا، کیا عمران خان اداروں سےتصادم نہیں کررہے، کل عائشہ گلالئی کےفیصلے پر الیکشن کمیشن پرالزامات لگائے گئے۔

رانا ثناء کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار1982سےٹیکس دےرہےہیں ریٹرنزموجود ہیں، تمام ریٹرنزکے باوجود اسحاق ڈار پر کیس بنا دیا گیا، اسحاق ڈار کی جائیداد کو3ارب تک پہنچا دیا گیا، راناثنا اللہ شریف فیملی کا ایک ممبر آواز اٹھائے تو اداروں سے تصادم ہے؟

وزیرقانون پنجاب نے دعویٰ کیا کہ عمران خان ریحام خان کےایک انٹرویو کی مار ہیں، عمران خان نے ججز سمیت ہر سیاستدان کیخلاف نازیبا گفتگو کی، عمران خان کےخلاف ثبوت ملتے ہیں تو کارروائی ہونی چاہیے۔


مزید پڑھیں : تمام کارکنان اور رہنما نوازشریف کی قیادت میں متحد ہیں، رانا ثناء اللہ


انھوں نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت کی خرابی انسانی مسئلہ ہے، عائشہ گلالئی نےجوالزامات لگائےہیں وہ نظرآرہاہےکہ درست ہیں، عائشہ گلالئی کےعمران خان پرالزامات کی تحقیقات کیلئے کمیشن بننا چاہیے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن دھرنے میں منشیات اسمگلنگ الزامات پر گلالئی سے بات کرینگے، بنی گالہ میں منشیات کابےدریغ استعمال کیاجاتاہے، وزیراعلیٰ کےپی کےعائشہ گلالئی کےالزامات کی تحقیقات کرائیں، منشیات سےمتعلق الزامات کی ہم بھی اپنی سطح پر انکوائری کریں گے۔

صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ اسحاق ڈار کیخلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے، ڈیڑھ سال تک پاناماکاپروپیگنڈاہوتارہااورنااہل اقامہ پرکردیا نوازشریف لندن میں رکیں گے تو وجہ بیگم کلثوم نوازکی طبیعت ہے، نوازشریف نےپہلےاین آراوکیانہ ہی اب کریں گے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ شرجیل میمن نیب کی انکوائری کےدوران ملک سےفرارہوئے، شرجیل میمن کی ضمانت عدالت سے خارج ہوئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top