site
stats
پاکستان

شریف خاندان پر پی ایچ ڈی کرنی ہے تو جے آئی ٹی شہبازشریف کو بلا لے، رانا ثناء اللہ

لاہور : وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے جے آئی ٹی ممبران انکوائری نہیں شریف خاندان پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، پی ایچ ڈی کرنی ہے تو جے آئی ٹی شہبازشریف کو بلا لے۔

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے وقت کارکنوں کو نہیں بلایا گیا، انکوائری سے 18 کروڑ عوام اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کا مستقبل جڑا ہوا ہے، اگر شریف فیملی کے خلاف کرپشن کا فیصلہ رحمن ملک کی شہادت پر ہونا ہے تو پھر انا للہ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جے آئی ٹی دن بدن متنازع ہوتی جا رہی ہے، جے آئی ٹی رپورٹ میں جو چیز سامنے آئی ہے وہ خطرناک ہے، تصویر لیک کرنیوالے ملزم کا نام اور ادارے کے بارے میں بھی بتایا جائے۔

وزیر قانون نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی کے مطابق وہی ملزم تھا تو مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا، لگتا ہے جے آئی ٹی انکوائری نہیں بلکہ تھیسیز لکھنے اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے شریف فیملی کے کوائف جمع کر رہی ہے، جے آئی ٹی اپنی حرکات کی وجہ سے کہیں سپریم کورٹ کے گلے نہ پڑ جائے، عدالت کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایچ ڈی اور تھیسیز کرنا ہے تو صرف شہباز شریف کو بلا کر تمام تفصیلات لے لی جائیں، جوانفارمیشن شہبازشریف دے سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں دے سکتا، ہوسکتا ہے شہبازشریف میری اس بات پر ناراض بھی ہوں، انہوں نے کتاب بھی لکھی ہے وہ طویل انٹیروگیشن پر اعتراضات نہیں کرینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں مرحومین کا ریکارڈ اور تدفین کی تفصیلات بھی طلب کی جا رہی ہے، پاکستان کے عوام شریف فیملی کے خلاف سازش کو ناکام بنائیں گے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سازش شریف فیملی نہیں، پاکستان کی ترقی اور آزاد عدلیہ کے خلاف ہے، پاکستان جمہوریت کے راستے پرگامزن ہے اس کوروکنے کی کوشش ہے، ان کرداروں کو ناکامی کا سامنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عزت و عظمت کی خاطر سینیٹر نہال ہاشمی کو فارغ کیا، اپوزیشن کی جانب سے نواز شریف کا استفعی مطالبہ نہیں بیماری ہے، اپوزیشن کے کہنے پر وزیر اعظم کبھی بھی مستعفی نہیں ہونگے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top