The news is by your side.

Advertisement

رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت پر سماعت، وکیل کی ضمانت منظور کرنے کی استدعا

لاہور: لاہور ہائی کورٹ میں منشیات اسمگلنگ کیس سے متعلق رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت پر سماعت جاری ہے، جسٹس چوہدری مشتاق احمد سماعت کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دوران سماعت راناثنااللہ کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، ضمانت منظور کی جائے، مؤکل ایک سیاسی لیڈر اور ایم این اے ہیں، مؤکل حکومت پر تنقید کرتے ہیں اس لیے انتقام کا نشانہ بنایا گیا، انہیں خاموش کرانے کے لیے جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔

جج کے روبرو وکیل کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ گرفتار کیے جانے سے قبل ہی خدشات کا اظہار کرچکے تھے، ن لیگی اراکین پارلیمنٹ کو توڑا جارہا تھا جسے مؤکل روک رہے تھے، اسی وجہ سے مؤکل کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔

خیال رہے کہ منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر 30 نومبر کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تا، جہاں صوبائی وزیر رانا ثنااللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دسمبر تک توسیع دی گئی تھی۔

رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت پر سماعت 4 دسمبر تک ملتوی

اس سے قبل 21 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے رانا ثنا اللہ کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کی تھی۔ رانا ثنا اللہ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت کے خلاف تنقید کرنے پرمنشیات اسمگلنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی آر تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمے کو مشکوک ثابت کرتی ہے، ایف آئی آر میں 21 کلوگرام ہیروئن اسمگلنگ کا لکھا گیا، بعد میں منشیات کا وزن 15 کلو گرام ظاہر کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے رانا ثنا اللہ کے خلاف اثاثہ جات کی تحقیقات کی منظوری دے دی

رانا ثنا اللہ نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ گرفتاری سے قبل گرفتاری کے خدشے کا اظہار کیا تھا، بے بنیاد مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

یاد رہے کہ یکم جولائی کو پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے حراست میں لیا تھا۔ اے این ایف مطابق فیصل آباد کے قریب ایک خفیہ کارروائی کے دوران گاڑی سے بھاری مقدارمیں منشیات برآمد کی گئی تھی، گاڑی سے برآمد منشیات میں ہیروئن شامل تھی۔

اے این ایف ذرائع کے مطابق ایک گرفتار اسمگلر نے دوران تفتیش رانا ثنا اللہ کی جانب سے منشیات اسمگلنگ میں معاونت کا انکشاف کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں