The news is by your side.

Advertisement

رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت کیس کا 2 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری

لاہور: انسداد منشیات عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت کیس کا 2 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کے کیس کا چالان جمع ہوچکا ہے، ان کے کیس کا اب باقاعدہ ٹرائل شروع ہونے والا ہے، رانا ثنا اللہ پر اے این ایف حکام نے 15 کلو ہیروئن رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج پہلی درخواست پر ہی پیش کردی گئی تھی، ملزم کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق طبی بنیاد پر درخواست ضمانت اس مرحلے میں منظور نہیں کی جاسکتی، رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جو مواد پیش کیا گیا اس سے رانا ثنا اللہ کا جرم سے بظاہر واسطہ نظر آتا ہے، ایسی کوئی وجہ نہیں جس کی بنیاد پر فوری ان کو ضمانت دی جائے۔

مزید پڑھیں: عدالت نے رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت پھر مسترد کر دی

واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت نے ملزم رانا ثنا اللہ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت کی استدعا ایک بار پھر مسترد کردی تھی۔

وکلائے صفائی نے فوٹیج اور طبی بنیاد پر ضمانت دینے کی استدعا کی تھی اور کہا تھا کہ عدالت چاہے تو بہ طور گارنٹی پاسپورٹ بھی رکھ لے، رانا ثنا اللہ قومی اسمبلی کے ممبر ہیں، ہر قسم کی ضمانت دینے کو تیار ہیں، مؤکل دل کے مریض ہیں آپریشن ہو چکا ہے۔

اے این ایف وکیل نے دلائل میں کہا کہ فوٹیج ہی نہیں ایک رپورٹ بھی ہے جسے مد نظر رکھا جائے، سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، مزید شواہد بھی ہیں، سیف سٹی اور موٹر وے کا سسٹم الگ الگ ہے، کیا تمام گھڑیاں ایک طرح کا وقت دے سکتی ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ضمانت میں کوئی نئی دلیل نہیں اس لیے مسترد کی جائے۔

دلائل کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کر دی، اس سے پہلے بھی رانا ثنا نے درخواست ضمانت دائر کی تھی جسے ڈیوٹی جج نے مسترد کر دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں