The news is by your side.

Advertisement

رانا شمیم نے ایک اور بیان حلفی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیا

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جج جی بی رانا شمیم نے ایک اوربیان حلفی جمع کرادیا ، جس میں کہا ہے کہ انکوائری سے ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ دیگر انصار عباسی کے پاس حلف نامہ کیسے آیا؟

تفصیلات کے مطابق سابق چیف جج جی بی رانا شمیم نے ایک اوربیان حلفی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا ، جس میں کہا ہے کہ10 نومبر 2021 کو کسی کو بتائے بغیر بیان حلفی لکھا، مرحوم اہلیہ سے وعدے کی وجہ سے حلف نامہ ریکارڈ کرنے پرمجبور ہوا۔

بیان حلفی میں کہا گیا کہ بیان حلفی انگلینڈمیں زیرتعلیم پوتےکےپاس سیل لفافے میں رکھاگیا ،مدعی ایک سمپوزیم میں شرکت کے لیے امریکا گیا ، مدعی کو تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا، مدعی نے 17 نومبر 2021 کو واپس آنا تھا۔

رانا شمیم کا کہنا تھا کہ 6نومبر 2021 کو سب سے چھوٹے بھائی کی موت کی خبر ملی اور 7 نومبر 2021 کو امریکا سے پاکستان روانہ ہو گیا، کسی مقدمے یاکسی جج کے حلف نامے اور نہ کسی کارروائی کے زیر التوا ہونے کاعلم تھا اور نہ ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اس معاملے کا علم تھا۔

بیان حلفی میں کہا کہ انصارعباسی نےحلف نامہ حاصل اورمندرجات کو شائع کیا ، علم نہیں انصار عباسی کےپاس بیان حلفی کےمندرجات کیسے آئے۔

بیان حلفی میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی ہدایت پرمذکورہ حلف نامہ سربمہر لفافے میں رجسٹرار کو بھیج دیا گیا، مدعی نے انصار عباسی کو حلف نامہ یا مندرجات شائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔

رانا شمیم کا کہنا تھا کہ انصار عباسی کا فون آیا، تاہم کمزور نیٹ ورک کےباعث بات نہ ہوسکی، حلف نامے کے مندرجات پرکسی سے مشاورت نہیں کی گئی، میرے خلاف منفی کارروائی کرنا سراسر ناانصافی ہو گی۔

بیان حلفی میں کہا گیا کہ انکوائری سےہی معلوم ہوسکتاہےکہ دیگر انصار عباسی کےپاس حلف نامہ کیسے آیا، بغیر کسی کارروائی کے رانا شمیم کو سزا دینا غیر منصفانہ ہو گا۔

عدالت میں جمع شدہ بیان حلفی میں رانا شمیم نے کہا کہ لندن میں اپنے ٹرانزٹ قیام کے دوران بیان حلفی نوٹ کرایا، حلف نامے میں صرف اس کاذکر کیا گیا ہے جو سنا اور دیکھا لیکن حلف نامے کامواد حاصل اور شائع کرنےوالوں کےخلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں