اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف کے بعد وفاقی وزیر رانا تنویر بھی اٹھارہویں ترمیم پر بول پڑے اور کہا اٹھارہویں ترمیم کے بعد اگر سب اچھا ہے تو کیا کراچی میں آگ بھی اچھی ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف کے بعد وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بھی اٹھارہویں ترمیم کا معاملہ اٹھا دیا۔
قومی اسمبلی میں پی پی رکن شازیہ ثوبیہ نے پوچھا کہ اسلام آباد میں گدھوں کا گوشت کھلایا جارہا ہے، اس معاملے کو کون دیکھے گا۔
رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی رکن شازیہ ثوبیہ کے سوال کے جواب میں کہا کہ اٹھارہویں ترمیم پر بات کرنے پر ہمیشہ "پھڑپھڑاہٹ” شروع ہو جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی جیسا واقعہ کیسے ہوا؟
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں گدھوں کا گوشت کھلانے کے معاملے کو نیشنل فوڈ سیکیورٹی اتھارٹی سے نہیں جوڑا جا سکتا، کیونکہ یہ تمام امور اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے ذمہ بن گئے ہیں۔
رانا تنویر حسین کے مسلسل اٹھارہویں ترمیم کے حوالہ دینے پر پیپلزپارٹی بھی خفا ہو گئی۔
پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ بات گل پلازہ آتشزدگی کی تھی، لیکن وزیر دفاع نے اسے کسی اور موضوع کی طرف لے جانے کی کوشش کی ، ہم اس بیان کو حکومتی پالیسی نہیں سمجھیں گے۔
سید نوید قمر نے مزید کہا: "آگ سے کھیلنا بند کریں، آپ کو معلوم نہیں کہ فیڈرل ازم کیا ہے۔ اگر آپ صوبوں کے وسائل مرکز کو دینا چاہتے ہیں تو پاکستان مضبوط نہیں ہو گا۔ پاکستان تب مضبوط ہوگا جب اس کی اکائیاں مضبوط ہوں۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


