The news is by your side.

Advertisement

بھارت، اسلام مخالف پوسٹ کرنے والی ہندو طالبہ کو قرآن مجید عطیہ کرنے کا حکم

نئی دہلی: بھارتی ریاست جہار کھنڈ کی عدالت نے اسلام مخالف پوسٹ کرنے والی ہندو لڑکی کو  پانچ قرآن مجید کے نسخے عطیہ کرنے کی سزا سناتے ہوئے اُسے ضمانت پر رہا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے علاقے رانچی سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ریچا بھارتی نے فیس بک پر اسلام مخالف پوسٹ شیئر کی تھی جس کے بعد مقامی شخص نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی۔

پولیس نے 12 جولائی کو رانچی میں کارروائی کرکے طالبہ کو گرفتار کیا اور پھر اُسے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں لڑکی نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور آئندہ نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ منیش کمار سنگھ نے ریچا بھارتی کو قرآن مجید کے پانچ نسخے سرکاری تعلیمی اداروں کو عطیہ کرنے کی شرط پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریچا بھارتی ایک نسخہ انجمنِ اسلامیہ کمیٹی اور دیگر چار قرآن مجید مختلف اسکولوں اور کالجوں کو عطیہ کرے گی۔

ملزمہ کے وکیل رام پرویش سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق ریچا کو خود جاکر قرآن مجید کا ایک نسخہ دیے کر اسکی رسید لینا ہوگی اسی طرح پانچوں جگہ سے رسید بھی حاصل کر کے اسے عدالت میں جمع کرانا ہوگا۔ عدالت نے ملزمہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ ایک کاپی مقدمہ درج کرانے والے منصور خلیفہ کو بھی دیا جائے گا۔

عدالت نے ریچا کو 7000-7000 روپے کے مچلکے جمع کرانے کی بنیاد پر  ضمانت دے دی، جس کے بعد اُسے جیل سے رہا کردیا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست گزار نے 12 جولائی کو پٹھوریا پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی تھی کہ ریچا نامی طالبہ فیس بک اور واٹس ایپ پر اسلام مخالف مواد پھیلا رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں