رینجرز کے تین دفاتر پرچھاپے، 5 افراد گرفتار، اسلحہ برآمد -
The news is by your side.

Advertisement

رینجرز کے تین دفاتر پرچھاپے، 5 افراد گرفتار، اسلحہ برآمد

کراچی : سندھ رینجرز نے آج کراچی میں بڑا ایکشن لیا ہے، اہم سیاسی شخصیت کے دوست کی کمپنی کے دو دفاتر پررینجرز نے چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔ بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کر کے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ جن میں سے دو افراد کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا، ڈیفنس میں بھی اہم سیاسی شخصیت کے فرنٹ مین کے گھر سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان رینجرز کا کہنا ہے ایک کمپنی کے دو مختلف دفاتر پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ ٹارگٹڈ کارروائی غیرقانونی اسلحے اور شرپسند عناصر کی مالی معاونت کی اطلاع پر کی گئی۔ ذرائع کے مطابق کمپنی سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی انورمجید کی ہے، پہلی کارروائی آئی آئی چندریگر روڈ پر کی گئی۔

رینجرز کے مطابق دوسرا چھاپہ ہاکی اسٹیڈیم کے قریب ایک دفتر پر مارا گیا۔ چھاپوں کے دوران علاقے کی ناکہ بندی کی گئی۔ رینجرز نے انشورنشس کمپنی کے ایک دفترمیں چھپایا گیا اسلحہ برآمد کرلیا۔

چھاپے کے دوران خفیہ خانوں سے سترہ کلاشنکوف، چار پستول تین ہزار سے زائد گولیاں اور نو بال بم برآمد کیے گئے۔ انشورنس کمپنی کے دفاتر پر چھاپے میں شہزاد شاہد، رجب علی راجپر،اجمل خان، کامران منیرانصاری اور کاشف حسین نامی افراد گرفتار کیے گئے۔

ترجمان رینجرز کے مطابق دفاتر سے اہم دستاویزات بھی تحویل میں لی گئی ہیں۔ اسلحے اور دستاویزات کی چھان بین کے بعد سہولت کاروں کیخلاف کارروائی ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کلفٹن میں بھی ایک اہم شخصیت کے فرنٹ مین کے گھرپرچھاپہ مارا گیا۔ کارروائی میں ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں کارروائی کے دوران منظورکاکا کے فرنٹ مین کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے کی۔ منظور کاکا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی رہ چکے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اومنی گروپ کے دو گرفتار ملازمین کامران انصاری اور کاشف حسین کو رہا کردیا گیا۔

ترجمان اومنی گروپ کی وضاحت

اومنی گروپ کی جانب سے وکیل نے وضاحت جاری کی ہے کہ بروز جمعہ ایک بجے رینجرز کے چند افراد ہماری کمپنی کے دو دفاتر جن میں سے ایک ہاکی اسٹیڈیم کے قریب اور دوسرا میٹروپول کے قریب میں داخل ہوئے اور تقریبا ایک گھنٹے دفتر کی تلاشی لی اور چند فائلز، سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ اور دو ملازمین جن کے نام کاشف شاہ اور کامران منیر انصاری کوساتھ لے گئے۔

اومنی گروپ کے وکیل نے کمپنی کی جانب سے بیان جاری کیا ہے کہ اومنی کے دفاتر مین چھاپے کے بعدرینجرز کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں آئی آئی چندریگر روڈ راورہاکی اسٹیڈیم کے دفاتر پر چھاپوں کے ساتھ پانچ ملازمین گرفتاری اور بھاری اسلحہ کی برآمدگی کا ذکر کیاگیا۔

ا ومنی گروپ آف انڈسٹریز وضاحت کرتی ہے کہ آئی آئی چندریگرو رڈ پر واقع دفتر جس پر چھاپہ ماراگیا اس دفتر کا اومنی گروپ آف انڈسٹریز سے کوئی تعلق نہیں، مزید یہ کہ ہمارے صرف دو ملازمین کو رینجرز نے حراست میں لیا گیا ہے جبکہ رینجرزکی پریس ریلیز میں مزید تین افراسد رجب علی راجڑ ، شہزاد شاہد اور اجمل خان سے ہماری کمپنی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ تین افراد رینجرز کے چھاپے کے وقت ہمارے دفتر میں موجود تھے۔

مزید یہ کہ رینجرز کی پریس ریلیز میں جس اسلحہ کا ذکر کیا گیا ہے اسلحہ نہ تو ہمارے کسی بھی دفتر سے برآمد ہوا اور نہ اس سے ہماری کمپنی کا کوئی تعلق نہیں۔

اومنی گروپ آف انڈسٹریز یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ ہماری کمپنی کسی بھی قسم کے گیر قانونی سرگرمیوں یا کاروبار میں ملوث نہیں اور پاکستان کے قانون کے مطابق اپنا جائز کاروبار کرتی ہے ہماری کمپنی سندھ رینجرز کی پریس ریلیز میں کمپنی کی طرف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سندھ اور عدلیہ سے درخواست کرتی ہے کہ اس معاملے پر آزادانہ انکوائری کرواکر انصاف فراہم کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں