site
stats
پاکستان

حساس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی جائے ، راوٴ انوار کا مطالبہ

کراچی : معطل ایس ایس پی ملیر راوٴ انوار نے ساتھی پولیس افسران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حساس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ میں اور میرے ساتھی بے گناہ ہیں، کچھ افسران مجھ سے ذاتی بغض رکھتےہیں۔

تفصیلات کے مطابق نقیب قتل کیس میں روپوش ایس ایس پی راؤانوار کمیٹی کے سامنے تو پیش نہ ہوئے مگر میڈیا پر بیانات دینے کا سلسلہ جاری ہے ، راوٴ انوار معطل ایس ایس پی ملیر راوٴ انوار نے ساتھی پولیس افسران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حساس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی جائے ، کچھ افسران مجھ سے ذاتی بغض رکھتے ہیں۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ نقیب کیس میں گھروالوں کو پولیس افسران گمراہ کررہے ہیں، میرےخلاف بیان دینے والے افسران کے ہاتھ صاف نہیں۔

ثنااللہ عباسی پر تنقید کرتے ہوئے معطل ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ ثنااللہ عباسی نے آج تک کتنے کامیاب آپریشن کئے؟ میرے پاس ان کے خلاف ٹھوس شواہدموجودہیں۔

انکا کہنا تھا کہ میں اور میرے ساتھی بے گناہ ہیں ، فرار نہیں ہورہا،اہلخانہ سے ملاقات کیلئے جاناکوئی جرم نہیں، جلد عدالتوں میں پیش ہوں گا۔

اس سے قبل بھی سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار نے دبئی فرار کی کوشش کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں کہیں بھی فرار ہونے کی کوشش نہیں کر رہا، مجھ سےمتعلق غلط خبریں چلائی جارہی ہیں۔


مزید پڑھیں : میں کراچی میں ہوں ، نہ کسی سے ڈر کر بھاگا ہوں نہ بھاگوں گا، راؤ انوار


راؤانوار کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہےمیں کراچی میں ہی ہوں، نہ کسی سے ڈر کر بھاگا ہوں نہ بھاگوں گا۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

نوجوان کی مبینہ ہلاکت کو سوشل میڈیا پر شور اٹھا اور مظاہرے شروع ہوئے تھے، بلاول بھٹو نے وزیرداخلہ سندھ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے ایس ایس پی ملیر سے انکوائری کی۔

اعلیٰ سطح پر بنائی جانے والی تفتیشی ٹیم نے راؤ انوار کو عہدے سے برطرف کرنے اور نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top