The news is by your side.

Advertisement

پولیس کے ہاتھوں خواجہ اظہار گرفتار، ایس ایس پی راؤ انوار معطل

کراچی: پولیس نے ایم کیو ایم کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کرلیا جس کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو معطل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر پولیس پارٹی نے دوبارہ چھاپہ مارا اور اظہار الحسن کو حراست میں لے لیا۔

پولیس پارٹی کی قیادت ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کر رہے تھے۔ خواجہ اظہار کو ہتھکڑی لگا کر پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔

اس سے قبل بھی آج ہی کے روز ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ اس دوران کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔

پہلے چھاپے کے وقت خواجہ اظہار الحسن سندھ اسمبلی میں موجود تھے۔ انہیں جیسے ہی اپنے گھر میں چھاپے کا فون موصول ہوا انہوں نے فوری طور پر وزیر اعلیٰ سندھ کو اس سے مطلع کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

وزیر اعلیٰ کے حکم پر ایس ایچ او سہراب گوٹھ کو بھی فوری طور پر معطل کردیا گیا۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔

تاہم اس کے کچھ ہی دیر بعد ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے چھاپے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ خواجہ اظہار کے گھر میں 12 مئی کے ملزمان کی موجودگی کی اطلاع تھی اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا۔ روپوش شدہ ملزمان میں ایک بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر کی موجودگی کی بھی اطلاع تھی۔

CM Sindh takes notice of raid on Kh Izhar’s house by arynews

انہوں نے بتایا کہ ملیر انویسٹی گیشن اور آپریشن پولیس کے 8 سے 10 اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور گھر کی تلاشی لی۔ ’یہ ایک معمول کی کارروائی تھی اور اس کا زیادہ واویلا کرنے کی ضرورت نہیں‘۔

بعد ازاں پولیس پارٹی ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی قیادت میں دوبارہ ان کے گھر پہنچی۔ اس وقت خواجہ اظہار کے گھر پر ایم کیو ایم کے متعدد رہنما اور کارکنان بڑی تعداد میں جمع تھے۔ پولیس نے ان سب کو پیچھے کرتے ہوئے خواجہ اظہار کو حراست میں لے لیا۔

اس دوران خواجہ اظہار الحسن اور فاروق ستار سمیت ایم کیو ایم کے رہنما پولیس سے دریافت کرتے رہے کہ خواجہ اظہار کو کیوں گرفتار کیا جارہا ہے۔

:فاروق ستار کی میڈیا سے گفتگو

خواجہ اظہار کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ خواجہ اظہار الحسن کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا گیا ہے۔ ’میں راؤ انوار سے وارنٹ گرفتاری دکھانے کو کہتا رہا لیکن نہ تو وارنٹ گرفتاری دکھایا گیا اور نہ ان کی گرفتاری کی وجہ بتائی گئی‘۔

فاروق ستار نے کہا، ’بغیر لیڈی سرچرز کے خواجہ اظہار کے گھر کی ایسے وقت میں تلاشی لی گئی جب گھر پر کوئی مرد نہیں تھا اور صرف خواتین موجود تھیں۔ ان خواتین کو ہراساں کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا، ’جس طرح دن دیہاڑے خواجہ اظہار کو گرفتار کیا گیا ہے اس سے زیادہ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری نظام کی بے توقیری نہیں ہوسکتی، اس سے زیادہ ذلت و رسوائی نہی ہوسکتی۔ اس ذلت و رسوائی سے بہتر ہے کہ ہم سب اجتماعی طور پر گرفتاریاں دے دیں‘۔

فاروق ستار نے راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی اس کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ معاملہ لندن سے پارٹی چلانے کا نہیں، نہ ہی معاملہ وہاں سے پاکستان مخالف نعرے لگانے کا ہے، بلکہ یہ معاملہ ایم کیو ایم دشمنی کا ہے، یہ مہاجر دشمنی ہے اور اس کا مقصد ایم کیو ایم کو دیوار سے لگا کر ختم کرنا ہے‘۔

:راؤ انوار کی معطلی

واقعہ کے فوری بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو معطل کردیا۔ مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے ان کی معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے ’غلط قدم‘ کو اس کی وجہ قرار دیا۔

خواجہ اظہار کا نام کئی مقدمات میں شامل ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ خواجہ اظہار کی گرفتاری کی وجہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی گرفتاری یا ان کے گھر پر چھاپہ سے قبل مذکورہ رکن کو آگاہ کیا جاتا ہے یا اسپیکر اسمبلی سے اجازت طلب کی جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں