The news is by your side.

Advertisement

نقیب محسود مقابلہ جعلی تھا،راؤانوار مرکزی کردار قرار

کراچی : نقیب اللہ قتل کے ضمنی چالان میں راؤانوار کو مرکزی کردارقرار دے دیا گیا،عدالت کو بتایا گیا راؤانوارقتل کے وقت جائےوقوعہ پرموجود تھا، نقیب محسودمقابلہ جعلی تھا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں نقیب اللہ قتل کا ضمنی چالان پیش کیا گیا۔

عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کا ضمنی چالان منظورکرلیا۔

عدالت کو بتایا نقیب اللہ قتل کا مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار جائے وقوعہ پر موجود تھا،جیو فینسنگ میں راؤ انوار کی موقع پر موجودگی ثابت ہوتی ہے۔

ضمنی چالان کے مطابق ملزم راؤانوار دو بجکر تینتالیس منٹ پرجائےوقوعہ پرپہنچا، ملزم اہلکار ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ بادی النظرمیں پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

چالان مین کہا گیا کہ راؤانوارملوث نہ ہونے کے ثبوت پیش نہیں کرسکے، ملزم راؤانوار دوران تفتیش ٹال مٹول سے کام لیتے رہے، ملزم راؤ انوار مسلسل حقائق بتانے سے بھی گریز کرتے رہے، راؤ انوار کا جائے وقوعہ پر موجود ہونا جعلی مقابلہ ثابت کرتا ہے۔

ضمنی چالان کے مطابق مقتولین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ہلاک کیا گیا، ملزمان کو ایک سے 5فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئیں۔

تفتیش کے مطابق راؤانوارجھوٹے مقابلےکامرکزی کردارہے اور راؤانوار،ڈی ایس پی قمراحمدسمیت12ملزمان گرفتارہیں۔

اس سے قبل نقیب محسود قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤانواربیمار ی کے باعث ریمانڈ ختم ہونے پرعدالت میں پیش نہ ہوئے، راؤ انوار کی عدم حاضری پر عدالت نے اظہاربرہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرپیش کرنےکاحکم دیا تھا۔


مزید پڑھیں : نقیب محسودکیس، راؤانوار بیمار، عدالت میں پیش نہ ہوئے


جیل حکام نے دوران سماعت میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ راؤانوار کو بیماری کے سبب عدالت میں پیش نہیں کرسکتے، راؤانوار علیل ہیں، کل ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پولیس نے 21 اپریل کو راؤ انوار کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا جہاں عدالت نے انہیں 2 مئی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

نقیب اللہ جرگے کے ارکان نے راؤ انوار کی عدالت میں غیر حاضری پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کراچی پولیس کا فٹ افسر ان فٹ کیسے ہوگیا بیماری کا بہانہ نہیں چلے گا راؤانوارکوہتھکڑی نہ لگی توشہربند کر دیں گے۔

خیال رہے کہ نقیب قتل کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے راؤ انوار کو نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار ٹھہرا یا،  رپورٹ میں‌ موقف اختیار کیا گیا کہ راؤ انوار اور ان کی ٹیم نے شواہد ضائع کیے، ماورائے عدالت قتل چھپانے کے لئے میڈیا پر جھوٹ بولا گیا۔

رپورٹ میں‌ کہا گیا تھاکہ جیوفینسنگ اور دیگر شہادتوں سے راؤ انوار کی واقعے کے وقت موجودگی ثابت ہوتی ہے، راؤ انوار نے تفتیش کے دوران ٹال مٹول سے کام لیا۔

واضح رہے کہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌ کیا تھا۔

ٹیم کا موقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں