ڈان لیکس: پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کی برطرفی ہائیکورٹ میں چیلنج -
The news is by your side.

Advertisement

ڈان لیکس: پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کی برطرفی ہائیکورٹ میں چیلنج

اسلام آباد: ڈان لیکس کے معاملے پر برطرف ہونے والے سابق پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤتحسین علی نے اپنی برطرفی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے حصول کے لیے درخواست دائر کردی۔

تفصیلات کے مطابق ڈان لیکس پر برطرف حکومتی عہدیداران میں شامل سابق پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیے۔

رجسٹرارآفس کو موصول ہونے والی درخواست میں راؤ تحسین نے کہا ہے کہ ڈان لیکس اسکینڈل میں انہیں قصور وار قرار دے کر ان کا کیریئر داغدار کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: ڈان لیکس کیا ہے؟

راؤ تحسین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں انکوائری کمیٹی رپورٹ ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔ لگائے گئے الزامات کی کاپی حاصل کرنا ان کا حق ہے۔

درخواست میں وفاق، سیکریٹری اطلاعات، داخلہ اور سیکریٹری وزیر اعظم کو فریق بناتے ہوئے راؤ تحسین نے استدعا کی ہے کہ عدالت کاپی فراہم کرنے کا حکم دے۔

اس سے قبل راؤ تحسین عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف ڈان لیکس کی تحقیقاتی کمیٹی، وزارت داخلہ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو لیگل نوٹس بھی بھجوا چکے ہیں۔ لیگل نوٹس میں بھی راؤ تحسین نے ڈان لیکس رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ 6 اکتوبر کو انگریزی اخبار ڈان میں صحافی سرل المیڈا کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس سے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر عسکری اور سیاسی قیادت میں اختلافات ہیں۔

خبر پر سیاسی اور عسکری قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔

ڈان لیکس کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو ان کے عہدے سے فارغ کیا گیا۔

بعد ازاں ڈان لیکس سے متعلق رپورٹ میں طارق فاطمی اور پرنسل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی جس کے بعد دونوں کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں