site
stats
پاکستان

ڈان لیکس میں ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے خلاف راؤ تحسین نے قانونی جنگ شروع کر دی

اسلام آباد : ڈان لیکس میں ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے خلاف راؤ تحسین نے قانونی جنگ شروع کر دی، راؤ تحسین نے تحقیقاتی کمیٹی اور حکومت کو لیگل نوٹسس بھجوا دیے۔

تفصیلات کے مطابق ڈان لیکس کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین نے عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف لیگل نوٹس بھجوادیا۔ لیگل نوٹس میں راؤ تحسین نے ڈان لیکس رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

راؤ تحسین کی جانب سے قانونی نوٹس ڈان لیکس تحقیقاتی کمیٹی، وزارت داخلہ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھجوائے گئے ہیں، نوٹس قاسم امام ایڈووکیٹ کی توسط سے بھجوائے گئے ہیں، لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے موکل کو ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی نے طلب کیا تھا، رپورٹ مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم کو بھجوائی گئی ، رپورٹ کی دیگر سفارشات کو نظر انداز کیا گیا، مگر راؤ تحسین کیخلاف ای اینڈ ڈی قواعد کے تحت کارروائی کا حکم دیا گیا۔

نوٹس میں کہا گیا ہےکہ متعلقہ فریق سات دن کے اندر جواب دیں، راؤ تحسین سے متعلق انکوائری رپورٹ اور تمام شواہد سات دن میں فراہم کیے جائیں۔


مزید پڑھیں : ڈان لیکس : راؤ تحسین کوبھی عہدے سے ہٹا دیا گیا


یاد رہے کہ ڈان لیکس رپورٹ میں طارق فاطمی اور راؤتحسین کو ذمے قرار دیتے ہوئے انکے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی ، جس کے بعد رپورٹ کی سفارشات پر منظوری دیتے ہوئے حکومت نے راؤتحسین کو بھی عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو انگریزی اخبار ڈان نے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس سےمتعلق ایک خبرشائع کی تھی، جسے خصوصی خبر کا نام دے کر شائع کیا گیا تھا، اس خبر میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں اختلافات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

صحافی سرل المیڈا کی خبر پر وزیر اعظم ہاؤس سے سخت رد عمل سامنے آیا تاہم خبرکی تردید کے ساتھ اسے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا گیا۔ خبر پر عسکری حکام نے بھی تشویش کا اظہار کیا جبکہ اس ضمن میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی صدارت میں کور کمانڈر کانفرنس بھی ہوئی تھی۔

نیوز لیکس کے پیچھے کون ہے ؟ تحقیقات کے لیے صحافی سرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تاہم کچھ روز بعد ہی اُس کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کردیا گیا تھا، جس کے بعد وہ بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے جبکہ سینیٹر پرویز رشید سے اطلاعات کی وزارت بھی واپس لی گئی اور ساتھ ہی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کر دیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top