ہمارے معاشرے میں اخلاقی گراوٹ اور سماجی سطح پر پستی کو موضوع بنایا جاتا ہے تو جنسی زیادتی کے واقعات سیاہ باب کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ محض ایک جسمانی جرم نہیں ہے بلکہ ایک انسانی روح، اس کے وقار اور جینے کے حق پر ایسا کاری وار ہے جس کے زخم کبھی مندمل نہیں ہوتے اور اس کے اثرات نسلوں کو بھی منتقل ہوسکتے ہیں۔
جب ہم جنسی زیادتی کے موضوع پر بات کرتے ہیں تو عام طور پر ذہن ایک مخصوص دائرے یا صنف تک محدود ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور وسيع ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو کسی ایک صنف، عمر یا طبقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا شکار مرد، عورتیں، بچّے اور مخنث سمیت معاشرے کا ہر طبقہ ہو رہا ہے۔ ہر صنف پر ہونے والے اس ظلم کی نوعیت، اس کے پیچھے کارفرما عوامل اور ان پر اس کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ان سب کا حاصل ایک ہی ہے: انسانیت کی تذلیل اور ایک جیتے جاگتے انسان کو اندر سے مستقل طور پر معذور کر دینا۔
عورتوں سے جنسی زیادتی کی تاریخ تو اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان کا طاقت کے نشے میں اندھا ہونا۔ معاشرے میں خواتین کو جسمانی طور پر کمزور سمجھنا، انہیں ایک شے یا جسم جاگیر کے طور پر دیکھنا اور مردانہ بالادستی کے زہریلے تصورات اس جرم کے بنیادی محرکات ہیں۔ یہ زیادتی صرف سنسان سڑکوں یا اندھیرے راستوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات یہ گھر کی چار دیواری، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر بھی تحفظ کے جھوٹے لبادے میں جنم لیتی ہے۔ کام کی جگہوں پر ہراساں کرنا اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر خواتین کو بلیک میل کرنا جنسی زیادتی کی ہی ایک خاموش مگر انتہائی خوفناک شکل ہے، جہاں بقا کی جنگ لڑتی عورت اکثر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف، مردوں سے جنسی زیادتی ایک ایسا ممنوع موضوع ہے جس پر معاشرہ بات کرنے سے بھی کتراتا ہے۔ مردانگی کے فرسودہ اور سخت معیار، جہاں مرد کو ہر حال میں ناقابل تسخیر اور مضبوط دکھانا لازمی سمجھا جاتا ہے، اس جرم کو چھپانے کا سب سے بڑا سبب بنتے ہیں۔ مردوں اور نوجوان لڑکوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی اکثر اوقات مقتدر حلقوں، جیلوں، یا مخصوص اداروں میں طاقت کے بے جا استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ اس کا شکار ہونے والے مرد شدید نفسیاتی الجھن، صدمے اور مردانگی کے چھن جانے کے خوف سے کبھی زبان نہیں کھول پاتے، جس کی وجہ سے یہ جرم نظر نہیں آتا۔ اسی طرح مخنث یا خواجہ سرا اس جرم کا سب سے آسان اور نرم ہدف سمجھے جاتے ہیں۔ معاشرتی تنہائی، قانونی تحفظ کی عدم موجودگی اور انہیں انسان سے کم تر سمجھنے کا رویہ درندوں کو شہ دیتا ہے کہ وہ ان کی بے بسی کا تماشا بنائیں اور ان پر ہر قسم کا جسمانی و جنسی تشدد روا رکھیں۔
اس بھیانک جرم کے پیچھے کارفرما عوامل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک ذہنی کیفیت کا نام نہیں، بلکہ اس میں اکثر تربیت سے لے کر سماجی ڈھانچے کی خرابی تک، کئی عوامل موجود ہوسکتے ہیں۔ سب سے بڑا عنصر طاقت اور کنٹرول کی وہ نفسیات ہے جس میں مجرم خود کو برتر اور شکار کو بے بس دیکھ کر تسکین حاصل کرتا ہے۔ انٹرنیٹ کا بلا روک ٹوک استعمال، اخلاقی اقدار سے دوری اور فحش مواد تک آسان رسائی نے انسانی ذہنوں کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ وہ رشتوں کے تقدس اور انسانی احترام کو بھول چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، قانون کا کمزور ہونا، انصاف کے حصول میں تاخیر اور مجرموں کو کڑی سزائیں نہ ملنا اس جرم کو مزید ہوا دیتا ہے۔ جب ایک مجرم کو معلوم ہو کہ وہ اپنے اثر و رسوخ، پیسے یا قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر بچ نکلے گا، تو اس کے حوصلے مزید بلند ہو جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد ہمارا سماجی رویہ ہے، جہاں اکثر اوقات مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، اس کے لباس، اس کے باہر نکلنے کے وقت اور اس کے کردار پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، جب کہ ظالم دندناتا پھرتا ہے۔ یہ رویہ مجرموں کے لیے سب سے بڑی پناہ گاہ ثابت ہوتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں جو سب سے زیادہ روح فرسا اور لرزہ خیز پہلو ہے، وہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہے۔ بچے جنہیں کائنات کا سب سے خوبصورت روپ سمجھا جاتا ہے، جب اس درندگی کا نشانہ بنتے ہیں تو یہ کائنات ماتم کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بچوں کے ساتھ یہ زیادتی کسی دور دراز علاقہ سے آئے ہوئے اجنبی سے زیادہ ان کے قریبی لوگوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں، اساتذہ یا گھر کے ملازمین کی طرف سے ہوتی ہے، جن پر بچہ اور اس کے والدین اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ بچے اپنی معصومیت اور ناتجربہ کاری کے باعث یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اور اگر وہ کچھ محسوس بھی کریں تو مجرموں کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں یا خوف کے باعث کسی کو بتا نہیں پاتے، جس سے ان کا اندرون مستقل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔
بچوں کو اس ہولناک دلدل سے بچانے کے لیے اور اس کے سدباب کے لیے سب سے پہلا اور اہم ترین قدم خاندانی سطح پر اٹھانا ہوگا۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ اور مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا تاکہ بچہ کسی بھی غیر معمولی واقعے یا رویے کو بلا جھجھک اپنے والدین سے شیئر کر سکے۔ بچوں کو بہت چھوٹی عمر سے ہی ‘اچھے اور برے لمس’ (Good Touch and Bad Touch) کا فرق سکھانا ناگزیر ہے۔ انہیں یہ باور کرانا ضروری ہے کہ ان کا جسم صرف ان کی ملکیت ہے اور کوئی بھی ان کی مرضی کے بغیر یا انہیں ناگوار اور نامناسب طریقے سے چھو نہیں سکتا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی گفتگو، ان کے بدلے ہوئے رویوں، اچانک تنہائی پسندی، چڑچڑے پن یا خوف کا گہرائی سے مشاہدہ کریں، کیونکہ یہ علامات کسی پوشیدہ صدمے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، بچوں کو کسی کے بھی حوالے کرتے وقت یا انہیں اکیلا چھوڑتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے، خواہ وہ کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ تعلیمی اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نصاب میں ایسے تربیتی سیشنز شامل کریں جو بچوں کو اپنی حفاظت خود کرنے کے قابل بنائیں۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کو اس حوالے سے بچوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے کوشش کرنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر، ریاستی اور قانونی سطح پر ایسے سخت قوانین نافذ کیے جائیں جن میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے درندوں کو عبرت ناک اور فوری سزائیں دی جائیں، تاکہ کوئی بھی ایسی گھناؤنی حرکت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔ جب تک ہم بطور معاشرہ ہر صنف کے احترام، قانون کی بالادستی اور بچوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح نہیں بنائیں گے، اس وقت تک ایک پرامن اور پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کے خواب کی تکمیل ممکن نہیں۔


