The news is by your side.

Advertisement

جنسی زیادتی کے واقعات پر مودی سرکار کی خاموشی، انسانی حقوق کے علم بردار چیخ اٹھے

نئی دہلی: کشمیر میں مسلمان بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے بعد گجرات میں ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی اور قتل پر بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے۔

بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی ریپ جیسے جرائم پر مسلسل خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس پر انسانی حقوق کے علم بردار چیخ اٹھے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ مودی نے حکومت سنبھالنے سے قبل خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے جتنے وعدے کیے تھے، ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں کیا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ سالہ مسلمان بچی کو متعدد ہندوؤں نے ایک ہفتے تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی خواتین رہنماؤں نے مسلمان ہونے کی بنا پر کشمیری بچی کے لیے آواز نہیں اٹھائی۔

کینڈین وزیراعظم کا دورہ بھارت، مودی حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

گزشتہ ایک ہفتے میں ریپ کا دوسرا افسوس ناک کیس اس وقت سامنے آیا جب اتر پردیش کے ایک سیاست دان پر ایک نوجوان لڑکی پر جنسی زیادتی کا الزام لگا، جس کے بعد مودی سرکار کی مسلسل خاموشی شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں جنسی زیادتی کی شکار خواتین میں بچوں کی تعداد چالیس فیصد ہے۔ خواتین کے غیر محفوظ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دو ہزار سولہ میں ریپ کے چالیس ہزار کیسز درج کیے گئے اور مودی حکومت میں ریپ واقعات میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا۔

مودی سرکار پر تنقید کرنے والوں نے ریپ کے حالیہ واقعات پر وزیر اعظم کا بیان ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت دیر سے جاگے ہیں، بی جے پی کے ایک سینئر رکن کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ کیسز میں ہمارے اپنے لوگ ملوث ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں