گوادر : پاکستان کی سمندری حدود میں پہلی بار عربی ہمپ بیک وہیلز کا نایاب نظارہ ہوا ، اب تک 27 اقسام کی ڈولفنز اور وہیل رپورٹ ہوچکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں نایاب اور معدومی کے خطرے سے دوچار عربی ہمپ بیک وہیلز (Arabian Humpback Whales) کا ایک بڑا غول دکھائی دیا۔
مقامی ماہی گیروں کی ٹیم، کیپٹن امیر داد کریم کی قیادت میں، گوادرسے تقریباً 11 بحری میل دور سمندر میں چھ سے زائد وہیلز کو مغرب سے مشرق کی سمت جاتے ہوئے دیکھا۔
گزشتہ ہفتے بھی گوادربے کے مشرقی حصے میں بریوڈز وہیلز کے ایک اور گروپ کی موجودگی رپورٹ ہوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی سمندری حدود میں اب تک 27 اقسام کی وہیلز اور ڈولفنز دیکھی جا چکی ہیں، جو یہاں کے زرخیز ساحلی ماحولیاتی نظام کی علامت ہے۔
عربی ہمپ بیک وہیل، جسے بیلین وہیل کی قسم قرار دیا جاتا ہے، بنیادی طور پر یمن اور سری لنکا کے درمیان عرب سمندر میں رہتی ہے۔ یہ دیگر ہمپ بیک اقسام کے برعکس جنوبی سمندروں کی طرف ہجرت نہیں کرتی بلکہ سال بھر عرب سمندر ہی میں رہتی ہے۔
عموماً وہیلز گرمیوں میں جنوبی خطوں کی جانب خوراک کے لیے جاتی ہیں اور بعد ازاں افزائش نسل کے لیے گرم پانیوں کا رخ کرتی ہیں۔ تاہم عربی ہمپ بیک وہیلز زیادہ تر عمانی پانیوں میں رہتی ہیں اور جنوب مغربی مون سون کے بعد جھینگوں اور چھوٹی مچھلیوں کے تعاقب میں پاکستان کے ساحل کی طرف بڑھتی ہیں۔
ماحولیاتی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق مقامی سمندری حدود میں اس نایاب نسل کی متعدد بار موجودگی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
ماضی میں عموماً ان وہیلز کو اکیلا یا جوڑوں کی صورت میں دیکھا گیا، تاہم اس بار دیکھا گیا بڑا غول ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر اس نایاب نسل کی آبادی میں ممکنہ بحالی کی علامت ہے، جو 1963 سے 1967 کے درمیان سوویت دور کی وہیلنگ سرگرمیوں سے شدید متاثر ہوئی تھی، جب روسی بیڑوں نے عرب سمندر کے شمالی حصے سمیت پاکستانی ساحل کے قریب بھی ان وہیلز کا شکار کیا تھا۔


