The news is by your side.

Advertisement

سفید رنگ کا حیرت انگیز زرافہ

افریقی ملک تنزانیہ کے لوگ اس وقت حیرت میں مبتلا ہوگئے جب انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی جو تنزانیہ کے ایک نیشنل پارک میں کھینچی گئی اور اس میں ایک سفید رنگ کا زرافہ نظر آرہا ہے۔

سفید رنگ کا یہ زرافہ تنزانیہ کے ترنجائر نیشنل پارک میں دیکھا گیا جس کی تصویر کشی ایک سائنسدان ڈاکٹر ڈیرک لی نے کی۔

مزید پڑھیں: زرافے کی گردن لمبی کیوں ہوتی ہے؟

مزید پڑھیں: زرافوں کے ساتھ ناشتہ

یہ تصویر دنیا بھر میں مقبول ہوگئیں اور لوگوں نے خیال کیا کہ شاید یہ کوئی نایاب نسل کا زرافہ ہے جس کی پیدائش صدیوں میں ہوتی ہے۔

giraffe-2

تاہم ڈاکٹر لی نے یہ غلط فہمی دور کرتے ہوئے بتایا کہ یہ زرافہ دراصل ایک جینیاتی بیماری کا شکار ہے جس کے باعث اس کے قدرتی رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں۔

giraffe-4

لیوک ازم نامی اس بیماری میں کسی جاندار کے جسم میں اسے رنگ دینے والے عناصر جنہیں پگمنٹس کہا جاتا ہے کم ہوجاتے ہیں، جس کے بعد ان کا قدرتی رنگ بہت ہلکا ہوجاتا ہے۔ یہ جینیاتی نقص کئی جانوروں میں ہوجاتا ہے جس کی بظاہر کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر لی جو تنزانیہ کے انسٹیٹیوٹ برائے جنگلی حیات کے بانی بھی ہیں، نے مزید بتایا کہ یہ غیر معمولی زرافہ جسے اومو کا نام دیا گیا ہے اپنے خاندان کے دیگر زرافوں کے ساتھ آرام سے رہتا ہے اور کسی زرافے کو اس کی رنگت سے کوئی مسئلہ نہیں۔

giraffe-5

ڈاکٹر لی تنزانیہ میں زرافوں کے تحفظ اور انہیں شکار سے بچانے کے اقدامات پر بھی کام کر رہے ہیں۔ زرافوں کا شکار ان کے گوشت کو حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور ڈاکٹر لی کے مطابق اومو کی غیر معمولی رنگت اسے شکاریوں کا مرکز نگاہ بنا سکتی ہے۔

giraffe-3

تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کی حفاظت کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ سفید زرافہ اپنی طبعی عمر پوری کرسکے گا۔

جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شکار اور غیر قانونی تجارت کے باعث زرافہ کی نسل کو شدید خطرہ ہے اور پچھلے چند عرصہ میں اس کا اس قدر شکار کیا گیا ہے کہ افریقہ میں موجود زرافوں کی آبادی اب صرف 40 فیصد رہ گئی ہے۔

giraffe-6

ماہرین کے مطابق پورے براعظم افریقہ میں اب صرف 80 ہزار زرافے ہی باقی بچے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں