ہفتہ, جولائی 11, 2026
اشتہار

شکیل بدایونی اور نوشاد کی پہلی ملاقات اور فلم درد

اشتہار

حیرت انگیز

عزم جب حوصلہ کے ساتھ قدم آگے بڑھاتا ہے تو تنگ شاہراہیں بھی کشادہ ہو کر اس کے سفر کو آسانیاں فراہم کرتی ہیں۔ شکیل بدایونی جب اپنی گل پاش وادیوں سے نکل کر بمبئی کی مرطوب اور حابس فضاؤں میں آئے تو عزم اور حوصلہ ان کا ہم جلیس کا تھا۔

وہ آئے تو تھے بمبئی میں ایک کل ہند مشاعرہ میں شریک ہونے مگر انھوں نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ بمبئی کے جس مشاعرہ میں شریک ہو کر وہ چند گھنٹوں بعد لوٹ جائیں گے وہی بمبئی ان کو روکنے کا عزم کر چکی تھی۔ نہ صرف عزم کر چکی تھی بلکہ شکیل احمد کے لیے ایک ایسا منصب بھی منتخب کر چکی تھی جو غیر متزلزل تھا۔

اس مشاعرے میں معروف فلم ساز، ہدایت کار عبد الرشید کاردار بھی موجود تھے۔ کاردار نہ صرف شکیل بدایونی کی وجیہہ اور جامہ زیب شخصیت سے متاثر ہوئے بلکہ ان کے شعری آہنگ اور ترنم ریز کلام سے بھی کاردار مسحور ہو گئے۔ کاردار فلم صنعت کے اہم فلم ساز ہونے کے ناتے فن اور فن کاری کی شناخت بھی رکھتے تھے۔ مشاعرہ کے اختتام کے بعد کاردار نے شکیل بدایونی کو فلموں میں نغمہ نگار کی حیثیت سے شمولیت کی دعوت دے ڈالی۔ شکیل بھی کاردار کے مہذبانہ اخلاق سے ایسے متاثر ہوئے کہ انکار نہ کر سکے اور اس دعوت کو قبول کر لیا۔ کاردار، شاہجہاں جیسی لاثانی فلم بنا چکے تھے۔ نوشاد اس فلم کے موسیقار تھے اور اس فلم میں پہلی بار مجروح سلطان پوری اور خمار کو بطور نغمہ نگار کاردار ہی نے متعارف کرایا تھا ۔ نوشاد رتن (1942ء) اور انمول گھڑی (1946ء) جیسی میوزیکل فلموں سے ملک گیر شہرت اختیار کر چکے تھے۔ رتن میں ڈی این مدھوک اور انمول گھڑی میں تنویر نقوی نغمہ نگار تھے۔ اب شکیل بدایونی کی باری تھی۔

شاہجہاں کے بعد کاردار نئی فلم کی تیاری کر چکے تھے۔ یہ فلم رئیس احمد جعفری کے اردو ناول "درد” پر مبنی تھی اور فلم کا عنوان بھی "درد” ہی رکھا گیا تھا۔ اس مسلم سوشل فلم کے موسیقار نوشاد علی تھے۔ شکیل اور نوشاد کی پہلی ملاقات کاردار اسٹوڈیو میں ہوئی تو وقت اور زمانے نے گویا ان کے منتشر وجود کی تشکیل کردی۔ فلم درد سے جو یہ رشتہ قائم ہوا تو کامل 36 سال تک ایک ہی محور پر قائم رہا۔ اس عظیم جوڑی نے ہندوستانی فلم صنعت کو وہ فلمیں دیں جن کے بارے میں بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تمام فلمیں عظمتوں کی امین فلمیں تھیں بلکہ یہ کہا جائے کہ فلم ساز اور ستاروں کے علاوہ شکیل اور نوشاد کے نام ہی ان فلموں کی کامیابی کے ضامن مانے گئے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے نام سے ہی شائق سنیما کی کھڑکی پر قطار بند ہوئے اور ان کے نغموں نے فلم کی وہ تاریخ مرتب کی جس کا آج بھی ایک زمانہ نہ صرف معترف ہے بلکہ معتقد بھی ہے۔

کون کہہ سکتا تھا کہ جس عروس البلاد ممبئی کی مسجد میں ان کے والد مولانا جمیل احمد قادری امام اور خطیب رہ کر مذہب اسلام کی اشاعت، شریعت کی تبلیغ اور صحابہ کرام نیز خلفائے راشدین کی سیرت مبارکہ سے اپنے کردار کی تخلیق میں مصروف کار تھے، ان کا بیٹا اس شہر عروس البلاد بمبئی میں فلم صنعت کا اہم رکن بن کر نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی دائمی شہرت حاصل کر جائے گا۔ مولانا جمیل احمد قادری یوں تو مذہبی شخص تھے مگر انھیں شاعری سے بھی شغف تھا۔ وہ شعر کہتے تھے اور سوختہ تخلص کرتے تھے۔ شکیل بدایونی کی رگوں میں بھی وہی خون رواں تھا۔ لامحالہ اس خون میں شعری تاثیر آنا ہی تھی۔ 14 سال کی عمر اور اسکول کی طالب علمی کا زمانہ تھا کہ 1930ء میں ان کا ذہن شاعری کی جانب راغب ہو گیا۔ مگر چوں کہ ذہن نا پختہ تھا اس لیے مولانا ضیاء القادری کے آگے زانوئے ادب تہ کیا۔ مولانا ضیاء القادری سے ان کا خون کا رشتہ نہیں تھا مگر والد کے قریبی تعلق کی بنا پر شکیل انھیں تایا کا درجہ دیتے تھے اور آخری عمر تک وہ ان کا اتنا ہی احترام کرتے رہے جتنا وہ اپنے والد کا کرتے تھے۔

فلم درد کی موسیقی نے ایک بار پھر نوشاد کو صفِ اوّل کا موسیقار ہونے کا اعزاز دے دیا۔ یہ اعزاز کسی ادارے کسی سوسائٹی یا کسی انجمن کا عطا کردہ نہ تھا، یہ اعزاز عوام نے دیا تھا لیکن اس بار شکیل بدایونی اس موسیقی بدوش فلم کے اہم رکن تھے۔ اس پہلی ہی فلم کے نغموں کی مقبولیت نے شکیل بدایونی کو وہ شہرت دلائی کہ اگر وہ تمام عمر مشاعرہ پڑھتے رہتے تو انھیں وہ مقبولیت اور ہر دل عزیزی حاصل نہیں ہو پاتی۔

(رشید انجم کی کتاب "ادب سے فلم تک” کا ایک پارہ)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں