site
stats
اے آر وائی خصوصی

بیٹے کی شہادت، باپ نے شہر تعمیر کردیا

ٹنڈوالہیار: بیٹے کی شہادت کے بعد ائیرفورس کے افسر ائیرکموڈور شبیر اور اُن کے ساتھیوں نے نیا شہر آباد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق 13 دسمبر 1997 کو دورانِ پرواز حادثے میں شہید ہونے والے پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان کے والد نے 20 برس قبل ایک خواب دیکھا اور اُسے عملی جامہ پہنا دیا۔

لیفٹیننٹ راشد احمد کے طیارے میں دورانِ پرواز آگ لگ گئی تھی جس پر انہوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے رابطہ کیا مگر پاک فضائیہ کے افسر نے جہاز کو بستی میں گرانے کے بجائے آبادی کو تباہی سے بچایا اور شہادت کو گلے گلا لیا۔

بیٹے کی شہادت کے بعد گھر تو ویران ہوا مگر اُن کے والد نے ایک پورا علاقہ آباد کر کے کئی گھروں کو آباد کردیا، پاک فضائیہ میں اینجل شبیر اور فضائیہ کے ایدھی کے نام سے مشہور ائیرکموڈور نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹنڈوالہیار سے 6 کلومیٹر دوری پر اس علاقے کی بنیاد کا کام شروع کیا۔

ائیرکموڈور نے اس علاقے کو بیٹے کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اس کا نام ’’راشد آباد‘‘ رکھا اور یہاں ایک نیا شہر آباد کرنے کا عزم کیا۔

اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آر میں میزبان وسیم بادامی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے افسر نے کہا کہ اللہ کے حکم سے اس علاقے کو تعمیر کرنے کا مقصد لوگوں کو صحت مندانہ ماحول، اچھی تعلیم اور صحت فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ راشد آباد میں لوگوں کو سستی سواری فراہم کرنے کے لیے جب ریلوے اسٹیشن کے قیام کی تجویز  دی تو محکمے نے صاف انکار کردیا تاہم جی ایم ریلویز میرے سینئر تھے خود تشریف لائے اور کہا کہ آپ اگر خود بنا سکتے ہیں تو بنائیں ۔

کموڈور شبیر نے کہا کہ جی ایم ریلویز کی اجازت کے بعد ہم نےاپنی مدد آپ کے تحت اسٹیشن تعمیر کیا اور آج لوگ اس سہولت سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں تاہم ایک ہنگامے کے دوران اسٹیشن کو نقصان پہنچایا گیا جس کے بعد حکومت نے اس کی تعمیر میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی مگر پروجیکٹ کے اختتامی مراحل میں اس کی مرمت کا کام کیا جائے گا۔

راشد آباد میں  دو اسکول موجود ہیں تاہم ایک اور اسکول تیاری اختتامی مراحل میں ہے اور انشاء اللہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا اسکول ہوگا، علاوہ ازیں راشد آباد میں 2 اسپتال بھی موجود ہیں جو عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔

کموڈور شبیر نے مزید کہا کہ  اس بات کا خیال 71 کی جنگ کے بعد آیا جب ہم فضاء میں ہوتے تھے تو سوچتے تھے، اس شہر  کے قیام سے ایک نئی سوچ پیدا ہوئی جس سے ثابت ہوا کہ اجتماعی طور پر کس طرح انقلاب لایا جاسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top