اپنی جان وطن پر قربان کر کے مثال قائم کرنے والے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا آج 44 واں یوم شہادت منایا جا رہا ہے۔
پاک فضائیہ کے آفیسر پائلٹ راشد منہاس سترہ فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے، راشد منہاس کا تعلق راجپوت گھرانے سے تھا، انہوں نے جامعہ کراچی سے ملٹری ہسٹری اینڈ ایوی ایشن ہسٹری میں ماسٹرز کیا۔
راشد منہاس نے تیرہ مارچ 1971 کو پاک فضائیہ میں بطور کمیشنڈ جی ڈی پائلٹ شمولیت اختیار کی، راشد منہاس شہید ابتداء ہی سے ایوی ایشن کی تاریخ اور ٹیکنالوجی سے متاثر تھے، ان کو مختلف طیاروں اور جنگی جہازوں کے ماڈلز جمع کرنے کا بھی شوق تھا۔
راشد منہاس شہید نے اپنی جان اس وقت وطن پر قربان کی جب وہ اپنی پہلی سولو فلائٹ پر روانہ ہو رہے تھے کہ اچانک انکے انسٹرکٹر مطیع الرحمان طیارے کو رن وے پر روک کر سوار ہوگئے اور طیارے کو بھارت لے جانا چاہا لیکن بیس سالہ راشد منہاس نے دشمن کی اس سازش کو ناکام بناتے ہوئے انڈین بارڈر سے بتیس میل کے فاصلے پر جہاز گرا دیا اور اس دشمن کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
راشد منہاس نے اپنی جان دے کر وطن کی عزت کو بچا لیا، راشد منہاس کی اس قربانی کو دیکھتے ہوئے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا، کم عمری میں نشان حیدر حاصل کرنے کے باعث انہیں کمسن شہید کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اٹک میں قائم کامرہ ایئر بیس کو ان کے نام سے منسوب کردیا، قوم کوعظیم سپوت کی قربانی اور کارنامے پر ہمیشہ فخر رہے گا۔
راشد منہاس شہید کراچی کے فوجی قبرستان میں آسودہ ء خاک ہیں۔