The news is by your side.

شہباز حکومت عوام کو ریلیف دینے میں پھر ناکام ، مہنگائی کی شرح 32 فیصد ہوگئی

اسلام آباد : پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 32 فیصد ہوگئی ، اس ہفتے کھانے پینے کی 23 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم حکومت کمر توڑ مہنگائی سے نمٹتے عوام کو ریلیف دینے میں پھر ناکام رہی اور عوام کے لیے رواں ہفتہ بھی بھاری رہا۔

ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا کہ مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی ہفتہ وار شرح 31.75 فیصد ہوگئی۔

ادارہ شماریات نے کہا کہ ایک ہفتے کے دوران 23 اشیا ضروریہ مہنگی اور ایک ہفتے کے دوران 7 اشیا ضروریہ میں کمی جبکہ 21 میں استحکام رہا۔

اعدادو شمار کے مطابق ایک ہفتے میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا اوسط 115 روپے 22 پیسے مہنگا ہوا اور ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 115 روپے 33 پیسے مہنگا ہوا، جس کے بعد ملک میں ایل پی جی گیس کے سلنڈر کی اوسط قیمت 2680 روپے ہوگئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ ہفتے لہسن 15 روپے 68 پیسے مہنگا ہوا اور لہسن کی اوسط فی کلو قیمت 363 روپے 10 پیسے ہوگئی۔

اسی طرح حالیہ ہفتے انڈے11 روپے 54 پیسے فی درجن مہنگے ہوئے جبکہ دال مسور 4 روپے 30 پیسے، دال مونگ 10 روپے 37 پیسے فی کلو ، دال ماش 6 روپے 28 پیسے اور دال چنا 5 روپے47 پیسےمہنگی ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ ہفتے چھوٹی بریڈ 4 روپے 31 پیسے، ٹوٹا باسمتی چاول 5 روپے فی کلو مہنگا ہوا جبکہ پیاز کی فی کلو قیمت میں 5 روپے 38 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ساتھ ہی آگ جلانے والی لکڑی، چینی، دودھ اور گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔

ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 7 روپے 87 پیسے کمی اوسط قیمت 56 روپے 13 پیسے ہوگئی، آلو 3 روپے 69 پیسے ، زندہ برائلر مرغی 17 روپے فی کلو سستی ہوئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں