راولپنڈی: پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جڑواں شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 40 افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، مشترکہ کومبنگ آپریشن کے دوران راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر ملحقہ اضلاع سے 35 افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ روات کے علاقے سے مزید 5 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار کیے گئے تمام افغان باشندے کسی بھی قانونی دستاویز یا ویزے کے بغیر پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔
پولیس نے تمام زیر حراست افراد کو مزید کارروائی کے لیے راولپنڈی کے خصوصی کیمپ منتقل کر دیا ہے، جہاں ان کے خلاف غیر قانونی قیام کے تحت قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے، پاک افواج کے حملوں میں افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ 27 افغان چوکیاں بھی مکمل تباہ کر دی گئیں۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کردی، افغان میڈیا کے مطابق رات تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
افغان میڈیا نے بتایا کہ صوبے پکتیا میں طالبان منصوری کور پردو مرتبہ بمباری کی گئی۔ افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ رات 12 بجے کے بعد قندھار میں پاکستانی طیارہ پرواز کرتا ہوا دیکھا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


