(14 جنوری 2026): راولپنڈی میں جرگے کے حکم اور غیرت کے نام پر قتل کی جانےو الی 17 سالہ سدرہ کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
تھانہ پیرودھائی پولیس نے راولپنڈی میں جرگے کے حکم اور غیرت کے نام پر قتل کی جانےو الی 17 سالہ سدرہ کے بھائی اشتہاری ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گرفتار ملزم قتل، جرگے اور تدفین میں شامل تھا، ملزم سے تفتیش کرتے ہوئے ٹھوس شواہد کیساتھ چالان کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سدرہ عرب قتل کیس میں والد، چچا، 5 بھائیوں سمیت 16 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ سدرہ کے قتل کا واقعہ تھانہ پیر ودھائی کے علاقے فوجی کالونی میں پیش آیا تھا، خاتون کے پہلے شوہر ضیاالرحمٰن نے مبینہ طور پر قتل کو چھپانے کے لیے تھانہ پیرو دھائی میں مقدمہ درج کروایا تھا۔
21 جولائی کو تھانہ پیر ودھائی میں درج کرائی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں ضیا الرحمٰن نے موقف اپنایا تھا کہ اس کی شادی 17 جنوری 2025 کو سدرہ سے ہوئی تھی، مدعی نے اپنی اہلیہ پر طلائی زیورات اور نقدی لے کر فرار ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق مقتولہ کو مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے پر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا، تھانہ پر ودھائی میں درج ایف آئی آر میں لڑکی کے عثمان نامی شخص سے مبینہ تعلق اور غیر شرعی نکاح کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مدعی نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا تھا کہ روالپنڈی کی فوجی کالونی کا رہائشی عثمان موقف اپنایا تھاکہ اس کی بیوی سدرہ کو ورغلا کر اپنے ساتھ لے گیا ہے اور غیر شرعی طور پر اس سے نکاح بھی کرلیا ہے، مدعی نے پولیس نے اپنی بیوی کو بازیات کرانے کی استدعا کی تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


