The news is by your side.

Advertisement

راولپنڈی طالبہ زیادتی کیس: دوبارہ بیان قلم بند کرانے کی درخواست مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

راولپنڈی: طالبہ سے اجتماعی زیادتی کیس میں دوبارہ بیان قلم بند کرنے کی درخواست پر عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق روالپنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالبہ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ اُس مجسٹریٹ کے سامنے پہلا بیان این جی اوز اور دیگر لوگوں کے دباؤ میں آکر دیا جس سے وہ دستبردار ہورہی ہے اور اب وہ 164 کا بیان دوبارہ قلم بند کرانے کی خواہش مند ہے۔

طالبہ کی درخواست پر اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ تھانہ روات کی جج سمیرا عالمگیر نے درخواست پر تفصیلی فیصلہ جار ی کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ بیان دینے سے ظاہر ہوتا ہے طالبہ کسی دباؤ کا شکار ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ طالبہ نے جس انداز سے بیان دیا اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُسے یہ سب پڑھا اور سمجھا کر لایا گیاہے، دوسری بار بیان لکھنا مقدمے کو خراب کرنے کے مترادف ہے لہذا فریقین کو قانون سے مذاق کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکے نے پہلا بیان ریکارڈ کرنے سے قبل اُسے مکمل سوچنے کا وقت دیا گیا تھا لہذا اب عدالت اُسی پر اپنی کارروائی برقرار رکھے گی۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی : پولیس اہلکاروں پر اجتماعی زیادتی کا الزام لگانے والی لڑکی بیان سے منحرف

یاد رہے کہ 17 مئی کو چوبیس سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کا کیس سامنے آیا تھا، متاثرہ لڑکی نے تھانے میں جاکر اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبہ کو چار افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا جن میں تھانہ روات کے تین پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

طالبہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں میڈیکل رپورٹس میں زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی تھی، روالپنڈی کے تھانہ روات میں زیادتی کا مقدمہ درج کر کے ملوث افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

عدالت نے پولیس اہلکاروں محمد نصیر، راشد منہاس، محمد عظیم اور چوتھے عام شخص عامر کو جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

بعد ازاں متاثرہ لڑکی اپنے بیان سے منحرف ہوگئی تھی اور اُس نے دو روز قبل یعنی 28 مئی کو ایک نیا بیان دیا تھا جس میں اُس کا کہنا تھا کہ وہ ملزمان کو نہیں جانتی، مذکورہ بیان پولیس اور این جی اوز کے دباؤ پر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: نوجوان طالبہ سے اجتماعی زیادتی، تین پولیس اہلکار وں کا جسمانی ریمانڈ منظور

کال سینٹر کی بائیس سالہ ملازمہ کا کہنا ہے کہ پہلا بیان پولیس اور این جی او کے دباؤ پر دیا، گرفتار ملزمان کو نہیں جانتی،آزادانہ بیان دے رہی ہوں، عدالت ملزمان کو ضمانت پر رہا کرتی ہے تو اعتراض نہیں ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں