میں براڈ کاسٹر ہوں اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ پڑھ کر سنائے جانے کے لیے لکھی جانے والی تحریر اور ہوتی ہے اور تنہائی میں بیٹھ کر پڑھنے کی تحریر اور ہوتی ہے۔ آپ افسانے کی کسی نشست میں جائیں۔ آپ جو کہانیاں سنیں گے ان میں سے بعض ابتدا ہی سے آپ کو اپنی گرفت میں لے لیں گی اور بعض پر دھیان لگائے رکھنا مشکل ہو جائے گا اور زرا دیر بعد یہ کیفیت ہو گی کہ افسانہ نگار اپنی کہانی پڑھ رہا ہوگا اور آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نہ جائے کیا کہہ رہا ہے۔
ڈرامے کا یہی معاملہ ہے۔ اسٹیج پر کھیلا جائے تو کیفیت اور ہوتی ہے، ناول کی طرح پڑھا جائے تو نوعیت مختلف ہو جاتی ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن کے بعض کام یاب اور مقبول ڈرامے بعد میں کتاب کی شکل میں شائع ہوئے اور میرا قیاس ہے کہ اتنے کام یاب ثابت نہیں ہوئے جتنے ٹی وی کی اسکرین پر ہوتے تھے۔ یہ بڑا طویل موضوع ہوسکتا ہے اور میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن ڈرامے سے متعلق ایک اور بحث میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔
بعض لوگ کہتے ہیں اور حال ہی میں استادِ گرامی جمیل جالبی نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اردو میں ڈرامے یا تھیٹر کی روایت بہت کمزور ہے۔ ممکن ہے ہو لیکن اب ایسا بھی نہیں ہے۔
جب تک بولنے والی فلمیں نہیں بنی تھیں، ہر طرف تھیٹر ہی تھیٹر تھا۔ کلکتے کا تھیٹر، بمبئی کا تھیٹر، پارسیوں کا تھیٹر، آغا حشر کا تھیٹر اور خدا جانے کیا کچھ۔ تھیٹر کمپنیاں شہر شہر گشت کرتی تھیں اور ڈرامے اسٹیج کیا کرتی تھیں۔ خود میں نے اپنے لڑکپن میں نہ صرف لیلیٰ مجنوں اور شیریں فرہاد جیسے ڈرامے دیکھے تھے بلکہ سلطانہ ڈاکو اور قتلِ تمیزن نامی ڈراموں سے بھی میں فیض یاب ہوا تھا اور مجھے یاد ہے کہ قتلِ تمیزن میں میرٹھ کی ایک طوائف ایک رئیس کے ہاتھوں کیسے قتل ہوئی تھی۔
ایک بار ہمارے شہر میں لیلیٰ مجنوں کا کھیل آیا۔ اپنے وقت کے ایک نامور اداکار اس میں مجنوں کا پارٹ ادا کر رہے تھے۔ انہیں ہر شام دیوانگی کی حالت میں اپنی قمیص کا گریبان چاک کرنا ہوتا تھا۔ اس کے لیے انہیں ایک پرانی قمیص درکار تھی۔ کسی نے انہیں میرے والد کا پتا بتایا کہ جا کر میر صاحب سے ان کی کوئی پرانی قمیص لے لو۔ اداکار صاحب ہمارے گھر آئے اور میری والدہ نے ان کے لیے ابّا کی سب سے پرانی اور قدرے بوسیده قمیص نکال کر دے دی۔ اس شام ہم سب ڈراما د یکھنے گئے اور ہم بھی مشتاق تھے کہ اسٹیج پر ابا کی قمیض کا گریبان چاک ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ لیکن اسٹیج پر مجنوں نے جو قمیص پھاڑی وہ کوئی اور قمیص تھی۔ اگلے روز ہیرو کو نہایت شان سے شہر میں گھومتے ہوئے دیکھا۔ اس وقت وہ ابّا کی قمیض پہنے ہوئے تھے۔
(رضا علی عابدی کے شخصی خاکوں اور مقالہ جات پر مشتمل کتاب جانے پہچانے سے اقتباس)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


