The news is by your side.

Advertisement

شہری لاپتہ ہورہے ہیں لیکن کوئی ریاست سے سوال نہیں کرسکتا، رضا ربانی

اسلام آباد : چیئر مین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ ادب، شاعری اور کتابیں برداشت کو جنم دیتی ہیں جب کہ ادب اور سوچ پر قدغن نے ملک میں انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کو جنم دیا۔

وہ اسلام آباد میں پروین شاکر ٹرسٹ کی جانب سے پروین شاکر کے شعری مجموعہ خوشبو کی انتالیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ پروین شاکر کی شاعری، خیالات اور اثرات موجودہ گھٹن زدہ ماحول میں مشعل راہ ہیں جنہیں زندہ رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروین شاکر کی موت کے بعد معاشرہ ان جیسی کوئی اور شاعرہ جنم نہیں دے سکا موجودہ نسل کو ادب اور ثقافت کے فروغ کیلئے پروین شاکر کے نقش قدم پر چلنا ہو گا ۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ریاست کا کاروبار اپنی اپنی منشاء کے مطابق چلایا جا رہاہے شہری علاقوں میں نفسا نفسی کا عالم پیدا کرکے کرپشن کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرہ مردہ ہو چکا ہے اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ شہری لاپتہ ہو رہے ہیں لیکن کوئی ریاست سے یہ نہیں پوچھ سکتا کہ عدالتیں موجود ہونے کے باوجود ایسے مجرموں کے خلاف آئین اور قانون کے تحت کوئی مقدمہ درج کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ریاست کے تحت لوگ غائب ہورہے ہیں اور یہ ہورہا ہے کہ خوف اتنا طاری کر دو کہ لوگ اپنے سائے سے بھی ڈریں یہی وجہ ہے کہ کسی میں ہمت نہیں کہ پوچھ سکیں اور اگر لاپتہ افراد مجرم ہیں تو ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔

چیئرمین سینیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ریاست نے اپنے اقدامات سے جان بوجھ کر ادب اور ثقافت کو تباہ کیا اور ملکی تاریخ میں فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے شعراء نے آمریت اور ریاستی تسلط اورجبر کے خلاف تحریک کو جنم دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں