بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

معروف شاعر رضی اختر شوق کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

رضی اختر شوقؔ کا مشہور شعر ہے۔

ہم روحِ سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ

معروف شاعر رضی اختر شوقؔ کا اصل نام خواجہ رضیُ الحسن انصاری تھا۔ آج ان کی برسی ہے، وہ 22 جنوری 1999ء کو کراچی میں‌ انتقال کرگئے تھے۔ رضی اختر شوق اردو شاعری میں‌ جدید لہجے کا ایسا نام تھا جو اپنے ہم عصروں میں‌ اپنے سلیقۂ اظہارِ خیال کے سبب ممتاز ہوئے۔ ان کی شاعری کو قارئین اور ادبی حلقوں میں بھی پذیرائی ملی۔ رضی اختر شوق کے متعدد اشعار زباں‌ زدِ عام بھی ہوئے۔

شوق صاحب کا تعلق سہارن پور سے تھا۔ وہ 1933ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حیدرآباد دکن میں مکمل کی۔ بعد میں جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کیا اور پاکستان چلے آئے۔ یہاں ان کی زندگی کراچی شہر میں بسر ہوئی اور اسی شہر میں ادبی مشاغل میں مصروف رہے جن میں مشاعرے، تنقیدی نشستیں اور دوسری ادبی تقاریب شامل ہیں۔ رضی اختر شوق نے جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ وہ شاعر ہی نہیں ڈرامہ نویس بھی تھے۔ انھوں نے ریڈیو کے لیے اسٹوڈیو نمبر نو کے نام سے کئی ڈرامے تحریر کیے جو اپنے زمانے کے اس مقبول تفریحی میڈیم کے ملک بھر میں موجود سامعین کے لیے یادگار ثابت ہوئے۔

رضی اختر شوق کا شمار ان شعرا میں کیا جاتا ہے جن کا کلام خوب صورت جذبوں اور لطیف احساسات سے آراستہ ہونے کے ساتھ ان کی بلند خیالی کا نمونہ ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں مرے موسم مرے خواب اور جست شامل ہیں۔

ان کی ایک غزل دیکھیے۔

اے خدا صبر دے مجھ کو نہ شکیبائی دے
زخم وہ دے جو مری روح کو گہرائی دے

خلقتِ شہر یونہی خوش ہے تو پھر یوں ہی سہی
ان کو پتّھر دے، مجھے ظرفِ پذیرائی دے

جو نگاہوں میں ہے کچھ اس سے سوا بھی دیکھوں
یا اِن آنکھوں کو بجھا یا انہیں بینائی دے

تہمتِ عشق تو اس شہر میں کیا دے گا کوئی
کوئی اتنا بھی نہیں طعنہَ رسوائی دے

مجھ کو اس شہر کی درماندہ خرامی سے الگ
پھر مرے خواب دے اور پھر مری تنہائی دے

انھیں کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں