The news is by your side.

Advertisement

ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش، بھارت اور نیپال جھگڑ پڑے

نئی دہلی : دو سال قبل نیپال میں آنے والے زلزلے کے بعد سروے آف انڈیا نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کا اعلان کردیا ہے جب کی نیپال نے ازسرنو پیمائش میں بھارت کی شمولیت قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سروے آف انڈیا نے ماؤنٹ ایورسٹ کی ازسرِ نو پیمائش کا فیصلہ دو سال قبل نیپال میں آنے والے زلزلے سے جغرافیائی تبدیلیوں کی خبروں کے بعد کیا ہے۔

سروے آف انڈیا کے مطابق یہ فیصلہ ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی ناپنے کے لیے کیا گیا ہے تا کہ معلوم چل سکے کہ آیا زلزلے کی وجہ سے دنیا کی بلند ترین چوٹی کی اونچائی میں کوئی کمی آئی ہے یا چوٹی اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہے ؟

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارتی سرویئر جنرل سورنا سوابا راو نے بتایا ہے ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی کو ناپنے کے لیے آئندہ دو ماہ کے اندر ماہرین کی ایک ٹیم نیپال اور چین کی سرحد پر واقع اس چوٹی پر بھیجی جائے گی۔

سروے آف انڈیا نے ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کے لیے جدید آلات کے استعمال کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کے تحت زمینی سروے کے ساتھ ساتھ جی پی ایس کی مدد بھی لی جائے گی جس کے باعث چند سینٹی میٹر کی بھی کسی ممکنہ تبدیلی کو ناپنا ممکن ہو جائے گا۔

کچھ سائنسدانوں کی جانب سے ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی میں کمی کا خدشہ اپنی جگہ لیکن بعض سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہو گا۔

دوسری جانب نیپال حکومت نے ماؤنٹ ایورسٹ چوٹی کی پیمائش خود کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس عمل میں بھارت کی شمولیت سے یکسر انکار کردیا ہے ۔

نیپال کے سروے ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی پیمائش کے عمل میں سروے آف انڈیا کی شمولیت کی ہامی نہیں بھری ہے اس حوالے سے بھارتی حکام کے دعوے بے بنیاد اور کم علمی پر مشتمل ہیں۔

اس سے قبل نیپال کے زلزلے کے بعد چین کی ایک سرکاری رپورٹ میں بتایاگیا تھا کہ ماؤنٹ ایورسٹ اپنی جگہ سے کم از کم تین سینٹی میٹر پیچھے ہٹا ہے تا ہم اونچائی اتنی ہی بتائی گئی تھی جو 62 سال پہلے پیمائش کی گئی تھی یعنی اونچائی میں کوئی کمی یا بیشی نہیں ہوئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں