The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ کام کرنےکےلیے تیار ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمیں ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبات سے اختلاف نہیں انکے ساتھ کام کرنے کیلیے تیار ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں میزبان وسیم بادامی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایم کیوایم کےمینڈیٹ کا پہلےبھی احترام تھا اب بھی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وسیم بادامی کے ایک معصومانہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلاول نے جب ایم کیو ایم کی مخالفت میں بیان دیے وہ بانی ایم کیوایم کا زمانہ تھا لیکن موجودہ ایم کیو ایم پاکستان بانی ایم کیوایم سے لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج کی تجویز بچکانہ ہے اس پر عمل ہی ںہیں ہوسکتا کیونکہ اٹھارویں ترمیم نے گورنر راج کے راستے بند کردیے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں ایم این ایز کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی سب نے دیکھی، ہر کسی کو حق ہے کہ اپنی مرضی سے ووٹ دے، وزیراعظم نے جلسے میں سندھ ہاؤس سےمتعلق عجیب باتیں کیں، انہوں نے ٹی وی پر ایم این ایز پر الزامات لگائے، گالیاں دیں، ایم این ایز نے خود کہا تھا کہ میڈیا سے بات کرنا چاہتے ہیں، ایم این ایز نے انٹرویو میں اپنے اوپر لگے الزامات کی وضاحت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے الزامات سے سیاست کو گندہ کردیا ہے، یہ لوگ اپنے ہی ایم این ایز پر الزامات لگاتے ہیں،

میزبان کے اس سوال پر کہ کیا یہ غیراخلاقی نہیں کہ جیتیں کسی اور پارٹی سے اور ووٹ کسی اور کو دیں؟ پر وزیراعلیٰ نے مختصر جواب دیا کہ ووٹ صورتحال دیکھ کر دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے جو نیوٹرل والی بات کی گئی، اس پر آج کل نیوٹرل کو گالی کےطورپرلیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ غیرآئینی وزیراعظم کوآئینی طریقےسےنکالاجارہاہے، عمران خان اعتماد کھوچکےہیں،صدر کواپنا آئینی فرض استعمال ادا کرنا چاہیے، پہلی بارملک میں جمہوریت عمل کومیچورٹی کی طرف لےجایاجارہاہے۔

ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ کسی کو کہیں سے کوئی فون نہیں آرہے نہ مجھے کوئی فون کال آئی اور نہ ہی ممبران کو، پہلی مرتبہ جمہوری سسٹم کو نیوٹرل طریقےسےچلنےدیا جارہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں