The news is by your side.

Advertisement

چاند کی مٹی 50 سال بند رکھنے کی وجہ سامنے آگئی

ناسا نے کہا ہے کہ 50 سال قبل لائی جانیوالی چاند کی مٹی کو اسلیے بند رکھا تھا تاکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی وہاں کے متعلق مزید بتا سکیں گی۔

ناسا سائنسدانوں نے 2026 میں ممکنہ طور پر بھیجے جانے والے پہلے آرٹیمس سے قبل 50 سال قبل اپولو خلا بازوں کی جانب سے لائی گئی چاند کی مٹی کے نمونے کو کھول دیا ہے۔

چاند کی مٹی کے اس نمونے کوامریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں قائم ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں آسٹرو مٹیریلز ریسرچ اینڈ ایکسپلوریشن سائنس ڈویژن نے کھولا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ جب اپولو کے خلاباز 50 سال قبل چاند سے مٹی لائے تھے تو ناسا نے دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں کچھ مٹی کو بند رہنے دیا تھا تاکہ مستقبل میں آنیوالی ٹیکنالوجیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مٹی کے ذریعے چاند کے ماحول سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔

ٹیم کو اس حوالے سے امید ہے کہ وہ اس نمونے کے ذریعے چاند کی سطح سے متعلق مزید جان پائیں گے اور چاند کے ارتقا اور اس کی ارضیاتی تاریخ کے متعلق کچھ ایسی تفصیلات سامنے آئیں گی جو اس سے قبل کسی کو معلوم نہ ہوں گی۔

اڑٹیمِس چاند کے قطب جنوبی سے چٹانوں کے ٹھنڈے اور بند ٹکڑے اور مٹی کے مزید نمونے اپنے ساتھ زمین پر واپس لائے گا۔

ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربیوکن کا کہنا تھا کہ تاریخ کو سمجھنا منصوبہ سازوں کو وہاں کی متوقع مٹی کی اقسام سمجھنے میں مدد ملے گی جب پہلی خاتون اور غیر سفید فام شخص چاند کی سطح پر اترے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں