The news is by your side.

Advertisement

جلتی ہائی روف سے مسافر باہر کیوں نہ نکل سکے، وجہ معلوم ہو گئی

کراچی: شہر قائد میں ہائی روف اور رکشے کے ٹکر اور آتش زدگی کے افسوس ناک واقعے سے متعلق یہ اہم بات معلوم ہوگئی کہ جلتی ہائی روف سے مسافر باہر کیوں نہیں نکل سکے تھے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں رونما ہونے والے ہائی روف حادثے میں آگ سے 11 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، ایکسیڈینٹ اینالسز ڈپارٹمنٹ نے واقعے کی رپورٹ تیار کر لی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہائی روف کے دروازے اندر سے نہیں کھل سکتے تھے اس لیے مسافر بر وقت باہر نہ نکل سکے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ ہائی روف کے اندر پنکھے موجود تھے جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی، گاڑی مکینکل طور پر بھی خراب تھی، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گاڑی کے دروازے صرف باہر سے کھل سکتے تھے، دروازے اندر سے کھل جاتے تو جھلسنے والے افراد باہر نکل سکتے تھے۔

نیو کراچی، چلتی ہائی روف میں آگ، مزید 2 بچے دم توڑ گئے

خیال رہے کہ کراچی میں ٹریفک حادثات کے حوالے سے 32 مقامات بلیک اسپاٹ قرار دیے جا چکے ہیں، بد قسمت گاڑی بھی نیو کراچی میں بلیک اسپاٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی، ذرایع کا کہنا ہے کہ ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کراچی پولیس چیف کو ارسال کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ 10 جنوری کو شہر قائد کے علاقے 2 منٹ چورنگی کے قریب پیش آیا تھا، ابتدائی طور پر اس میں 6 افراد جھلس کر جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے تھے، جن میں 3 خواتین، 2 بچے اور ایک مرد شامل تھے۔ حادثے کے شکار بد قسمت ہائی روف میں 3 سگے بھائیوں کے اہل خانہ سوار تھے۔ بی ڈی ایس نے جائے حادثہ پر تباہ شدہ گاڑی کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ شارٹ سرکٹ کے بعد پیٹرول کی وجہ سے گاڑی میں آگ پھیلی، سی این جی سلنڈر محفوظ تھے۔ چلتی ہائی روف میں آگ لگی تو بے قابو ہو کر رکشے سے ٹکرا گئی، جس سے رکشے میں بھی آگ لگی۔

تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ حادثے کو شدید بنانے میں پیٹرول سے بھری بوتلوں کا بھی ہاتھ تھا، جس کے بعد تمام پیٹرول پمپس پر پابندی لگا دی گئی ہے کہ بوتل میں پیٹرول نہیں دیا جائے گا اور گاڑیوں میں بھی پیٹرول کی بوتل رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں