کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے ریکوڈک کیس میں جرمانہ عائد ہونے پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کی ہدایات کا خیرمقدم کیا۔
سردار یار محمد نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کرنے والے کمیشن میں نہ صرف بلوچستان سے منتخب نمائندے لئے جائیں بلکہ کمیشن کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے ایک ٹائم فریم دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کے کیس انیس سو ترانوے سے لیکر تنازعہ پیدا ہونے تک ماضی کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں موجود چند عناصر نے مس ہینڈل کیا جس کے نتائج آج پاکستان اور بلوچستان کی عوام کو بھگتنے پڑیں گے۔
سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ چاہے کوئی سیاستدان ہو ماضی کا حکمران ہو یا سرکاری افسران جس پر غفلت ثابت ہو انہیں قرار واقعی سزا دی جائے کیونکہ اس پروجیکٹ میں غفلت کے نتائج بلوچستان اور پاکستان کیلئے تباہ کن ہیں۔
ریکوڈک کیس: پاکستان کو 5.8 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے احتساب کا جو وعدہ کرپشن کے معاملے پر عوام سے کیا ہے اسے جس انداز سے کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں، انہیں امید ہے کہ ریکوڈک جیسے قومی منصوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کے خلاف بھی اسہی تیزی سے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ آنے والے دنوں میں کوئی حکمران قومی منصوبوں کو اس انداز میں تباہ نہ کر سکے جس انداز سے ریکوڈک منصوبے کو تباہی کے دھانے پر پہنچایا گیا ہے۔