The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں بے روزگاری 8 دہائیوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

واشنگٹن : امریکہ میں بے روزگاری 8 دہائیوں کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی، اس وقت امریکہ میں ہرپانچ میں سےایک فرد بے روزگار ہے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا کے عالمی معیشت پر منفی اثرات کے باعث دنیا کی بڑی معیشتیں بھی لڑکھڑا گئیں، امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 2 مئی کوختم ہونےوالےہفتےمیں امریکہ میں بےروزگارافرادکی تعداد 2 کروڑ 50 لاکھ ہوگئی، اس وقت امریکہ میں ہرپانچ میں سے ایک فرد بےروزگار ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوٹل اور تفریحی سیکٹر ہوئےہیں۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق امریکا میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد بھی معاشی سست روی سے بے روزگاری کلیمز میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، صرف دو ماہ پہلے امریکہ میں بے روزگاری کی شرح ساڑھے تین فیصد تھی۔

امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بےروزگاری کی شرح چودہ اعشاریہ سات فیصدرہنے کاخدشہ ہے۔

خیال رہے امریکا میں وائرس سے تباہ کاری کا سلسلہ جاری ہے ، 78 ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 13 لاکھ بائیس ہزار افراد وائرس سے متاثر ہوئے، امریکا میں سب سے زیادہ ہلاک نیویارک میں ساڑھے 26 ہزار ہوئیں ، نیوجرسی میں 8 ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے جبکہ مشی گن میں 4 ہزار اور کیلی فورنیا میں ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

وائٹ ہاوس کے اہلکار میں وائرس کی تصدیق کے بعد امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی نائب صدر مائیک پینس کا ایک بار پھر ٹیسٹ ہوا جو منفی آیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں