The news is by your side.

Advertisement

فلپائن میں ہم جنس پرست سڑکوں پر آگئے

منیلا/اسکوپیے : فلپائنی صدر ڈوٹیرٹے نے ہم جنس پرستوں کی پریڈ سے خطاب کے دوران اپنے مخالفین کےلیے کئی مرتبہ ’گے‘ لفظ استعمال کیا جس پر شرکا ء نے ناراضی کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق فلپائنی دارالحکومت منیلا میں ”گے “پریڈ کا اہتمام کیا گیاجس پریڈ میں ہزاروں ہم جنس پرستوں نے شرکت کی، دوسری جانب شمالی مقدونیہ کے دارالحکومت اسکوپیے میں بھی ہم جنس پسندوں کی پہلی ریلی نکالی گئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کا کہنا تھا کہ یہ پریڈ ایسے وقت میں منعقد کی گئی جب فلپائنی صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ ہم جنسی پرستی کی بیماری سے شفایاب ہو چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ صدر ڈوٹیرٹے نے لفظ ”گے“ کئی مرتبہ اپنے مخالفین کے لیے تقاریر میں استہزائیہ انداز میں بھی استعمال کیا، پریڈ کے کئی شرکاءملکی صدر کے ایسے بیانات پر ناراضی کا اظہار کرتے دیکھے گئے۔

منتظمین کے مطابق پریڈ میں تیس ہزار سے زائد افراد شریک تھے، دوسری جانب شمالی مقدونیہ کے دارالحکومت اسکوپیے میں بھی ہم جنس پرستوں کی جانب سے پہلی ریلی نکالی گئی۔

یاد رہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں واقع مسلم اکثریتی ملک برونائی میں رواں سال اپریل میں نئے اسلامی قوانین کا اطلاق کیا گیا تھا، جس کے تحت ہم جنس پرستی کرنے اور بدفعلی کے مرتکب افراد کو سنگسار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم اور دیگر ممالک نے شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کرنے کے بعد برونائی کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ اعلان کو واپس لیا جائے ، ابتدائی طور حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملہ قرار دیا تھا۔

بعد ازاں جنوب مشرقی ایشیاء کے ملک برونائی دارالسلام کے سلطان حسن البلقیہ نے عالمی سطح پر سخت تنقید کے بعد اعلان کیا ہے کہ ہم جنس پرستی اور زنا کے مرتکب افراد کو سنگسار نہیں کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں