The news is by your side.

Advertisement

دعا کی بازیابی: صوبے اور 3 شہروں کی سرحدوں پر 7 پولیس ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں

کراچی: پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی سے مبینہ اغوا کی جانے والی لڑکی دعا زہرا کی بازیابی کے لیے صوبہ پنجاب اور 3 شہروں کی سرحدوں پر 7 پولیس ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی اے وی سی سی زبیر نذیر شیخ نے بتایا ہے کہ بہاولنگر چشتیاں سے بازیاب کی جانے والی دعا زہرا اور اس کے شوہر ظہیر کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

زبیر شیخ کے مطابق دعا زہرا اور اس کے شوہر کو کراچی منتقلی کے لیے قانونی تقاضے پورے کر لیے گئے ہیں، لڑکی کی باریابی کے لیے کراچی سے 7 ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں۔

انھوں نے بتایا 3 ٹیمیں پنجاب، 2 مانسہرہ، ایک ٹیم راولپنڈی، اور ایک رحیم یار خان بارڈر پر تعینات تھی، اب یہ ساتوں ٹیمیں دعا زہرا اور اس کے شوہر کو تحویل میں لے کر کراچی منتقل کر رہی ہیں۔

ایس ایس پی اے وی سی سی کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر آج ہی دونوں کو کراچی منتقل کر دیا جائے گا، کراچی پہنچنے پر دونوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، خیال رہے کہ دعا زہرا اور اس کے شوہر نے چشتیاں میں اپنے بھائی کے سسرال میں پناہ لے رکھی تھی۔

دعا زہرا کی بازیابی کے لیے پاکستان بھر میں چھاپے مارے گئے، کراچی پولیس نے پنجاب سے لے کر کشمیر اور دیگر صوبوں میں بھی چھاپے مارے، سینکڑوں افراد کا ڈیٹا شارٹ لسٹ کر کے پولیس نے چیک کیا اور دعا زہرا کو بازیاب کرایا گیا۔

دعا زہرا بازیاب ہو گئی، شوہر اور سہولت کار زیر حراست

دعا کے والد نے مقدمہ درج کروانے کے بعد عدالت کو درخواست کی تھی کہ دعا زہرا اور ظہیر احمد کی 17 اپریل کو ہونے والی شادی غیر قانونی قرار دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ پیدائش کے مطابق نکاح کے وقت دعا زہرا کی عمر 14 سال سے کم تھی، کم عمری کی شادی چائلڈ میرج ایکٹ 2013 کے تحت جرم ہے، نادرا ریکارڈ کے مطابق بھی دعا زہرا کی عمر 13 سال بنتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں