دنیا بھر میں سستی اور متبادل توانائی کے حصول کے لیے سولر پینلز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم ایک اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ میعاد پوری کرنے کے بعد ان کا کیا انجام ہوگا؟
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے تقریباً ہر چوتھے گھر کی چھت پر سولر پینلز نصب ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا؟
رپورٹس کے مطابق ایک سولر پینل کی اوسط عمر 25 سے 30 سال تک ہوتی ہے۔ ان پینلز میں چاندی، تانبا، سیلیکون اور ایلومینیم جیسی قیمتی دھاتیں استعمال کی جاتی ہیں، لیکن مدت پوری ہونے کے بعد بالآخر یہ ناکارہ ہوجاتے ہیں۔
امریکا میں صورتِ حال یہ ہے کہ تقریباً 90 فیصد استعمال شدہ سولر پینلز کچرے کا حصہ بن جاتے ہیں، جبکہ صرف 10 فیصد کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس یورپی ممالک میں ان کی ری سائیکلنگ کی شرح نسبتاً زیادہ ہے اور قوانین کے تحت 80 فیصد پینلز کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سولر پینلز کو ری سائیکل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اخراجات ہیں۔ امریکا میں پرانے پینلز کو ری سائیکل کرنے کے مقابلے میں انہیں کوڑے دان میں پھینکنا زیادہ سستا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ان میں موجود قیمتی خام مال کو نئے سولر پینلز کی تیاری میں دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شعبے کو ایک اور چیلنج بھی درپیش ہے، کیونکہ اب تک اتنی بڑی تعداد میں پرانے سولر پینلز جمع نہیں ہو سکے کہ ان کی ری سائیکلنگ ایک منافع بخش صنعت بن سکے۔ اس کے علاوہ ری سائیکلنگ کی ٹیکنالوجی بھی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
استعمال شدہ پینلز سے سیلیکون، ایلومینیم، چاندی اور تانبا سمیت کئی قیمتی دھاتیں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے ایلومینیم فریم الگ کیا جاتا ہے، پھر پینلز کے ماڈیولز کو مخصوص طریقے سے توڑ کر ان کے مختلف اجزا جدا کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس عمل کے ذریعے سولر پینلز میں استعمال ہونے والے 80 سے 90 فیصد مواد کو دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین میں سولر پینل تیار کرنے والی کمپنیوں کو استعمال شدہ پینلز جمع کرنے اور ان کی ری سائیکلنگ کی ذمہ داری دی گئی ہے، تاہم دنیا کے بیشتر ممالک میں اس حوالے سے واضح قوانین موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کی ری سائیکلنگ نہ صرف زہریلی دھاتوں کو ماحول کو نقصان پہنچانے سے روکتی ہے بلکہ نئی کان کنی کی ضرورت بھی کم کرتی ہے، جو ماحولیات اور سولر انڈسٹری دونوں کے لیے مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



