The news is by your side.

Advertisement

شیطان صفت عورت جس کی پیرول پر رہائی متنازع بنی

دنیا کی مختلف اقوام، قبائل اور مختلف گروہوں میں زمین اور وسائل پر قبضہ کرنے یا کسی تنازع کے سبب خوں ریز تصادم اور ہول ناک جنگیں‌ بھی لڑی گئیں، جن میں غلبہ پانے اور اپنی فتح یقینی بنانے کے لیے جاسوسوں کی مدد لی جاتی تھی جو دشمن کی کم زوریاں جاننے اور اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے سازشیں‌ رچاتے تھے۔ تاریخ کے اوراق میں ہمیں‌ کئی جاسوسوں اور خفیہ ایجنٹوں‌ کا ذکر ملتا ہے جنھوں‌ نے اپنے مقصد کے لیے سازشیں اور قتل کیے یا اپنی تنظیم اور گروپ کے مقاصد کی تکمیل کے لیے دہشت اور خوف پھیلایا۔

تاریخ میں کئی عورتوں کا نام بھی اس حوالے سے محفوظ ہے اور انھیں‌ دنیا کی خطرناک اور سفاک خواتین کہا جاتا ہے۔

جرمنی کی بریجیٹ مونہاہت ایک ایسا ہی نام ہے جسے شیطان صفت عورت کہا جاتا ہے۔ 1949 کو پیدا ہونے والی بریجیٹ ریڈ آرمی فیکشن کی سرکردہ رکن تھی جو انتہائی بائیں بازو کا شدت پسند گروپ تھا جس نے ستر کی دہائی میں مغربی جرمنی میں خوف اور دہشت پھیلائی۔ اس دوران متعدد افراد اغوا اور قتل ہوئے جب کہ اس عرصے میں تخریبی کارروائیوں‌ اور بم دھماکوں میں‌ بھی بہت نقصان ہوا۔

1977 میں یہ سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔ دہشت اور خوف کی اس لہر کو ’جرمن خزاں‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ گروپ مغربی جرمنی کی سرمایہ دارانہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کر رہا تھا جسے ہائی جیکنگ اور اغوا اور قتل میں ملوث بتایا جاتا ہے۔

یہ سفاک اور قاتل عورت جس کا نام بریجیٹ تھا، اس گروپ کی اہم اور نہایت متحرک رکن تھی جسے 1982 میں گرفتاری کے بعد پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر نو افراد کی ہلاکت میں ملوث ہونے الزام ثابت ہونے پر اضافی 15 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔

بریجیٹ پر ایک بینکر کے قتل کا الزام بھی تھا جسے قتل سے پہلے پھول پیش کیے اور پھر قریب سے گولی مار دی گئی جس کے نتیجے میں وہ اپنی جان سے گیا۔ اس کےعلاوہ جرمنی کی اس سفاک عورت نے ایک امریکی کمانڈر اور اس کی اہلیہ کو راکٹ لانچر سے اڑا دینے کی کوشش بھی کی تھی۔

بریجیٹ مونہاہت کو 2007 میں پیرول پر رہا کر دیا گیا تو اس فیصلے پر جرمنی میں ایک بحث چھڑ گئی۔ یہ فیصلہ جرمنی کے سیاسی اور قانونی حلقوں ہی میں زیرِ بحث اور متنازع نہیں‌ بنا بلکہ اس خاتون یا اس گروہ کی کارروائیوں کے نتیجے میں مرنے والے افراد کے اہلِ خانہ بھی اس سے متاثر ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں