The news is by your side.

Advertisement

اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ جاری ، گرفتاری کے لیے انٹرپول کو درخواست

اسلام آباد :اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ  وزارت داخلہ کی منظوری کے بعداسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے ہیں، جبکہ  گرفتاری کے لیے انٹرپول کو درخواست دے دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،  جس سلسلے میں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے،  وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار طلبی کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کے ریڈوارنٹ جاری کردیے گئےہیں، وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ریڈ وارنٹ جاری کیے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسحاق ڈار کا پاسپورٹ منسوخ کیا گیا ہے۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسحاق ڈارکا پاسپورٹ منسوخ ابھی تک نہیں کیا گیا، انٹرپول کی جانب سے کارروائی کا انتظار ہے، پاسپورٹ کی تنسیخ کو واپس نہ آنے کا جواز بنایا جا سکتا ہے۔

جسٹس سردارطارق مسعود نے استفسار کیا کہ کیا مفرور ملزم کی جائیداد ضبطگی کی کارروائی کی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا ملزم کی جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ کے اجراء کی منظوری دے دی، جس کے بعد  ان کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے ہیں جبکہ  گرفتاری کے لیے انٹرپول کو درخواست دے دی گئی ہے اور انہیں انٹرپول کے ذریعے ہی وطن واپس لایا جائے گا۔


مزید پڑھیں : اسحاق ڈار نہیں آتے تو ان کا پاسپورٹ منسوخ کیا جائے اور انٹرپول کے ذریعے انہیں واپس لایا جائے، چیف جسٹس


یاد رہے 9 جولائی کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس میں اسحاق ڈار کو عدالت میں 3 روز میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسحاق ڈار ملک کی سب سے بڑی عدالت کو خاطر میں نہیں لارہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے اسحاق ڈار کی پیشی یقینی بنانے کے لیے وزارت داخلہ اور اٹارنی جنرل کو حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسحاق ڈار مفرور ہیں، کوئی بھی ان کو پکڑ کرپیش کرسکتا ہے،اگر اسحاق ڈار نہیں آتے تو ان کا پاسپورٹ منسوخ کیا جائے اور انٹرپول کے ذریعے انہیں واپس لایا جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں