نجی کمپنی کے 30 مزدوروں‌ کے15 لاکھ روپے ہڑپ کرنے کا انکشاف Labor helpless
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: نجی کمپنی کے افسر نے مزدوروں‌ کے 15 لاکھ روپے ہڑپ کرلیے

کراچی: نجی کمپنی کے افسران کی ملی بھگت سے غریب اور لاچار مزدوروں کے لاکھوں روپے کے واجبات ہڑپ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، بے بس مزدور مدد کے لیے اے آر وائی نیوز کے دفتر پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق کورنگی انڈسٹریل ایریا میں واقع نیشنل ریفائنری میں کاسٹنگ کا کام کرنے کی مد میں مزدوری کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی نجی ملکیتی کمپنی نے چند برس قبل 30 مزدوروں کو کام پر رکھا، مزدوروں کو ان کی تنخواہ پابندی سے ملتی رہی۔

کئی برس بعد نیشنل ریفائنری نے ان 30 ملازمین کے لیے فنڈ کی مد میں 15 لاکھ 60 ہزار روپے کی رقم دی جو تاحال مزدوروں کو نہیں ملی۔

اطلاعات ہیں کہ مزدوروں کے لیے نیشنل ریفائنری سے یہ کمپنی کو دی گئی، کمپنی نے رقم وصول کرلی تاہم چند مزدوروں کے سوا بقیہ تاحال رقم کے لیے دربدر ہیں۔

ایک متاثرہ ملازم عمانوئیل مسیح نے اے آر وائی نیوز کو بیان دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نجی کمپنی کا منیجرنعمان، سپر وائزر اشرف پال اور سپر وائزر نیامت ٹوکی اس سارے معاملے کے ذمہ دار ہیں، انہوں نے ہم 30 مزدوروں کے شناختی کارڈ لے کر نیشنل ریفائنری سے ہمارے لیے فنڈ کی رقم حاصل کرکے خود ہڑپ کرلی۔


Private Company Employee 1 by arynews

متاثرہ ملازم کے مطابق ہم نے نجی کمپنی میں کئی برس کام کیا، ہر ملازم کی ایک برس کے فنڈ کی رقم سالانہ 52 ہزار روپے تک بنتی ہے یعنی 30 ملازم کی سالانہ رقم 15 لاکھ 60 ہزار روپے ہے۔

متاثرہ ملازم نے بتایا کہ 30 میں سے 4 ملازم ان کے من پسند تھے جنہیں 25 ہزار روپے فی کس کے حساب سے سپروائزرز نے ادا کیے جب کہ بقیہ تمام بے بس مزدور تاحال اپنے واجبات کے منتظر ہیں۔

متاثرہ ملازم نے اپنے بیان کے حق میں دلیل پیش کی کہ کمپنی کا ایک سپر وائزر اشرف پال کرائے کے مکان میں رہتا تھا فنڈ ملنے کے بعد وہ اچانک اپنے گھر کا مالک بن گیا اور اس نے گاڑی نمبر CG 9632 کیسے خرید لی؟ جب کہ دوسرے ٹھیکے دار کے پاس بھی اسی طرح لاکھوں روپے موجود ہیں، نیب تحقیقات کرے تو فراڈ سامنے آجائے گا۔

متاثرہ مزدوروں نے اے آر وائی نیوز کے توسط سے سندھ حکومت، وزارت محنت، وزارت صنعت وتجارت اور دیگر متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں ان کے واجبات دلانے کے لیے اقدامات کریں اور جرم کے مرتکب ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے۔

اے آر وائی نیوز نے اس ضمن میں سپر وائزر اشرف پال سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں ریفرا کمپنی چھوڑ چکا ہوں، اس وقت متعدد ملازمین کے لیے نیشنل ریفائنری نے رقم فراہم کی میں نے 11 مزدوروں کو رقم دے دی بقیہ مزدوروں کو رقم نہ ملنے کے ذمہ دار منیجر نعمان اور دوسرا سپر وائزر نیامت ہیں جنہیں خود کئی بار کہا کہ وہ ان لوگوں کے واجبات ادا کردیں مگر انہوں نے نہیں دیے۔

اے آر وائی نیوز نے ٹھیکے دار یا دوسرے سپروائزر کہلانے والے نیامت ٹوکی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ ریفرا کمپنی کو 30 مزدوروں کی مد میں 15 لاکھ 60 ہزار روپے ملے جو کہ 52 ہزار روپے فی ملازم بنتے ہیں، دفتری کارروائی کے بعد کٹوتی کرکے ہر فرد کے حصے میں50 ہزار روپے آتے ہیں، میں نے 8 افراد کو 50 ہزار کے حساب سے ادائیگی کردی ہے بقیہ جن افراد کو رقم نہیں ملی اس کے ذمہ دار اشرف پال ہیں، میں نہیں۔

ریفرا کمپنی کے منیجر نعمان نے اے آر وائی نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ ہم نے نیشنل ریفائنری سے رقم وصول کرکے زیادہ رقم سپر وائزر اشرف پال اور چند افراد کے پیسے ٹھیکے دار نیامت کے حوالے کیے، نیامت نے اپنے حصے میں آنے والے افراد کو رقم کی ادائیگی کردی تاہم اشرف پال رقم ہڑپ کرگیا۔

انہوں نے خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ کمپنی نے باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت اور تمام دستاویزی کارروائی کے بعد بینک کے ذریعے اشرف پال کو رقم کی ادائیگی کی، بوقت ضرورت یہ تمام ثبوت اور دستاویزات مہیا کی جاسکتی ہیں، پہلے ہی تمام ملازمین کو ماہانہ رقم کی ادائیگی اشرف پال ہی کرتا تھا اسی لیے بعد میں بھی تقسیم کرنے کے لیے رقم اسے ہی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام غبن کا ذمہ دار سپر وائزر اشرف ہے، اگر کسی کو رقم نہیں ملی تو وہ پولیس یا عدالت سے رجوع کرے اور ہمیں بھی بلائے اور دیگر سپر وائزر کو بھی، ہم سامنے آںے کو تیار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں