The news is by your side.

Advertisement

قومی ادارہ صحت میں عالمی معیار کی اصلاحات کے حکومتی دعوے ہوا ہوگئے

اسلام آباد : قومی ادارہ صحت میں عالمی معیار کی اصلاحات کے حکومتی دعوے ہوا ہو گئے، اصلاحات کے نام پر قومی ادارہ صحت مکمل غیر فعال اور کام ٹھپ پڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شعبہ صحت کے سب سے بڑے قومی ادارے پر حکومتی تجربات کا سلسلہ جاری ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اصلاحات کے نام پر قومی ادارہ صحت مکمل غیر فعال اور کام ٹھپ پڑا ہے۔

قومی ادارہ صحت میں عالمی معیار کی اصلاحات کے حکومتی دعوے ہوا ہو گئے، ذرائع نے بتایا ہے کہ این آئی ایچ ری آرگنائزیشن ایکٹ پر عملدرآمد کا تاحال آغاز نہ ہو سکا، این آئی ایچ ری آرگنائزیشن ایکٹ کو پارلیمنٹ سے پاس ہوئے چھ ماہ ہو گئے۔

قومی ادارہ صحت بورڈ آف گورنر کے متعدد اجلاس بے نتیجہ ختم ہوئے کیونکہ این آئی ایچ بورڈ آف گورنر اصلاحات پر عملدرآمد کیلئے متفق نہ ہو سکا، این آئی ایچ بورڈ آف گورنر میں عالمی، لوکل نجی ماہرین صحت شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایکٹ کے تحت قومی ادارہ صحت کے سات نئے سنٹرز قائم نہ ہو سکے، این آئی ایچ کے سات نئے سنٹرز چھ ماہ قبل قائم ہونا تھے۔

قومی ادارہ صحت کے سینکڑوں ملازمین مستقبل کے بارے غیر یقینی کا شکار ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت قومی ادارہ صحت کو اصلاحات کیلئے فنڈز کی فراہمی میں ناکام رہی ، اصلاحات ایکٹ کے تحت این آئی ایچ کو 50 ارب روپے فراہم ہونا تھے۔

ذرائع نے کہا کہ قومی ادارہ صحت میں کام کورونا ٹیسٹنگ کی حد تک محدود رہ گئے، ڈینگی کا ملک گیر ڈیٹا تاحال مرتب نہ ہو سکا۔

این آئی ایچ ایکٹ کے تحت ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا عہدہ ختم اور افسر براجمان ہے ، پروفیسر عامر اکرام تاحال ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی ایچ کے عہدے پر فائز ہے ، ان پکی ڈیپوٹیشن 20 جولائی کو مکمل ہو چکی ہے، زرائع

قومی ادارہ صحت نے کورونا کے دوران گرانقدر خدمات انجام دیں تاہم قومی ادارہ صحت میں وبائی امراض کے ڈیسک غیر فعال ہے ، این آئی ایچ میں وبائی امراض کا ملک گیر ڈیٹا مرتب نہیں ہو رہا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں