بدھ, اگست 12, 2026
اشتہار

ریفریجریٹر کا بہترین درجہ حرارت کیا ہونا چاہیے؟

اشتہار

حیرت انگیز

گھروں میں موجود ریفریجریٹر صرف کھانے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اسے نقصان دہ بیکٹیریا سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم اگر ریفریجریٹر کا درجہ حرارت درست نہ ہو تو کھانے پینے کی اشیا جلد خراب ہو سکتی ہیں اور فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) اور امریکی محکمہ زراعت نے خوراک کی حفاظت کے لیے ’40 ڈگری رول‘ متعارف کر رکھا ہے۔

اس اصول کے مطابق ریفریجریٹر کا اندرونی درجہ حرارت 40 ڈگری فارن ہائیٹ (تقریباً 4 ڈگری سینٹی گریڈ) یا اس سے کم ہونا چاہیے۔ اس حد سے زیادہ درجہ حرارت پر نقصان دہ بیکٹیریا تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں، جس سے خوراک کھانے کے قابل نہیں رہتی۔

refrigerator Fahrenheit

سب سے موزوں درجہ حرارت

اگرچہ 40 ڈگری فارن ہائیٹ محفوظ حد ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ 37 ڈگری فارن ہائیٹ (تقریباً 3 ڈگری سینٹی گریڈ) فریج کے لیے سب سے موزوں درجہ حرارت ہے۔

اس درجہ حرارت پر خوراک تازہ رہتی ہے، بیکٹیریا کی افزائش کم ہوتی ہے، اشیاء منجمد ہونے سے بھی محفوظ رہتی ہیں اور بجلی کی کھپت بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔

جدید ریفریجریٹرز میں ڈیجیٹل کنٹرولز موجود ہوتے ہیں جن کے ذریعے صارف مطلوبہ درجہ حرارت براہِ راست منتخب کر سکتا ہے لیکن بہت سے پرانے یا سادہ ماڈلز میں صرف نمبروں، برف کے نشان یا مختلف لیولز کی صورت میں سیٹنگ دی جاتی ہے، جن سے اصل درجہ حرارت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں صرف اندازے پر انحصار کرنے کے بجائے فریج کے اندر ایک ریفریجریٹر تھرمامیٹر رکھنا زیادہ بہتر ہے جس کے ذریعے وقتاً فوقتاً درجہ حرارت چیک کرنا بھی خوراک کی حفاظت کا مؤثر طریقہ ہے۔

 temperature control refrigerator

صرف سیٹنگ کافی نہیں

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ فریج کی سیٹنگ کرنے کے بعد وقتاً فوقتاً اس کا درجہ حرارت ضرور چیک کریں۔ موسم کی تبدیلی، گھر کے اندر گرمی یا سردی، بار بار دروازہ کھولنے اور فریج میں زیادہ سامان رکھنے جیسے عوامل اندرونی درجہ حرارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

خاص طور پر وہ ریفریجریٹر جو گیراج یا کسی غیر ایئرکنڈیشنڈ جگہ پر رکھے جاتے ہیں، شدید گرمی میں مطلوبہ ٹھنڈک برقرار رکھنے میں مشکل محسوس کرسکتے ہیں، جبکہ سخت سردی میں ان کے اندر موجود اشیا منجمد بھی ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں تھرمامیٹر کے ذریعے نگرانی انتہائی ضروری ہے۔

’دو گھنٹے کا اصول‘ کیا ہے ؟

خوراک کی حفاظت کے لیے ایف ڈی اے ایک اور اہم ہدایت بھی دیتا ہے جسے "ٹو آور رول” یعنی دو گھنٹے کا اصول کہا جاتا ہے جس کے مطابق پکا ہوا کھانا، بازار سے خریدی گئی اشیا، ریسٹورنٹ سے لایا گیا کھانا یا بچا ہوا کھانا دو گھنٹے سے زیادہ کمرے کے درجہ حرارت پر نہیں رہنا چاہیے۔

اگر باہر کا درجہ حرارت 90 ڈگری فارن ہائیٹ (تقریباً 32 ڈگری سینٹی گریڈ) یا اس سے زیادہ ہو تو یہ وقت کم ہو کر صرف ایک گھنٹہ رہ جاتا ہے۔

گرم کھانے کو فریج میں کیسے رکھیں؟

بعض لوگ گرم کھانے کو ٹھنڈا ہونے کے لیے کافی دیر تک باہر رکھتے ہیں، لیکن ماہرین اس کی سفارش نہیں کرتے۔

اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بڑے برتن میں رکھنے کے بجائے کھانے کو چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں تقسیم کریں۔دو گھنٹے مکمل ہونے سے پہلے اسے فریج میں منتقل کر دیں۔ اس سے کھانا جلد ٹھنڈا ہوگا اور بیکٹیریا بڑھنے کے امکانات بھی کم رہیں گے۔

 Freezer & Refrigerator Temperatures

یاد رکھیں !! فریج کا درست درجہ حرارت برقرار رکھنا صرف بجلی بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ صحت کا بھی اہم تقاضا ہے، اگر فریج کا درجہ حرارت 40 ڈگری فارن ہائیٹ (4 ڈگری سینٹی گریڈ) یا اس سے کم رکھا جائے جبکہ 37 ڈگری فارن ہائیٹ کو ہدف بنایا جائے اور ساتھ ہی دو گھنٹے کے اصول پر عمل کیا جائے تو خوراک زیادہ دیر تک محفوظ، تازہ اور صحت بخش رہ سکتی ہے۔

اہم ترین

مزید خبریں