کراچی : شہری نے بل جمع نہ کرانے کے باعث مستقل جمع کرنیواالے صارف کی بجلی منقطع کرنے کے معاملے پر عدالت سے رجوع کرلیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں دیگر صارفین کے بل جمع نہ کرانے کے باعث مستقل بل جمع کرنے والے صارف کی بجلی منقطع کرنے کے معاملے کی سماعت کی گئی۔
عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے فوری سماعت کی استدعا منظور کر لی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل اورنگی ٹاؤن نمبر 8، داتا نگر کے رہائشی اور کے الیکٹرک کے اسٹار کسٹمر ہیں، بل ادا کرنے کے باوجود علاقے میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے اور 13 جنوری کو کے الیکٹرک نے بغیر کسی پیشگی نوٹس پورے علاقے کی بجلی منقطع کر دی۔
درخواست میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک نے ہائی لائن لاسز کا جواز دے کر علاقے کا پی ایم ٹی منقطع کیا، جبکہ باقاعدہ بل ادا کرنے والے صارفین کے خلاف یہ اقدام امتیازی سلوک ہے۔
درخواست گزار کے مطابق طویل بجلی بندش سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی اور متعدد کوششوں اور شکایتوں کے باوجود بجلی بحال نہیں کی جا سکی۔ نومبر 2025 میں بھی اسی طرح علاقے کی بجلی منقطع کی گئی تھی۔
درخواست میں کہا گیا کہ نیپرا ایکٹ کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پر بلا امتیاز بجلی کی فراہمی لازم ہے اور چند صارفین کی جانب سے عدم ادائیگی کو بنیاد بنا کر پورے علاقے کی بجلی بند کرنے کی اجازت کسی قانون میں نہیں ہے، کنزیومر سروس مینوئل 2021 کے تحت بجلی منقطع کرنے کا اختیار صرف نادہندگان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک، بیپرا اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 21 جنوری تک جواب طلب کر لیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کے الیکٹرک کے پورے علاقے کی بجلی منقطع کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے، علاقے کی بجلی فوری طور پر بحال کی جائے اور نیپرا کو کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


