The news is by your side.

Advertisement

رحمان بھولا کے سنسنی خیز انکشافات، سانحہ بلدیہ میں‌ قیادت ملوث تھی

کراچی: سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کے اعتراف کیا ہے کہ علی انٹرپرائزز کے مالکان سے 25 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا گیا تو انہوں نے 2 کروڑ روپے ادائیگی کی رضامندی ظاہر کی جس پر حماد صدیقی نے فیکٹری میں آگ لگانے کی ہدایت دی۔

نمائندہ اے آر وائی فیض اللہ کے مطابق سانحہ بلدیہ کے مرکزی ملزم رحمان عرف بھولا نے اعتراف کیا ہے کہ ’’آگ لگانے کے واقعے میں ایم کیو ایم کے عہدیداران بھی شامل تھے اور حماد صدیقی نے یقین دلایا تھا کہ واقعے بعد اراکین اسمبلی متاثرین کی امداد کے لیے کیمپ لگائیں گے‘‘۔


پڑھیں: ’’ سانحہ بلدیہ: ہاں آگ میں نے لگائی، رحمان بھولا عدالت میں روپڑا ‘‘


رحمان بھولا کے اعترافی بیان کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں اُس نے اس واقعے میں ایم کیو ایم کے دیگر عہدیداران کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

بھولا نے عدالت میں اعتراف کیا کہ معاملے کو دبانے کے لیے پارٹی کا اثرورسوخ استعمال کیا گیا اور رؤف صدیقی نے فیکٹری مالکان کو دباؤ میں لینے کے لیے اُن کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔


مزید پڑھیں: ’’ سانحہ بلدیہ ٹاؤن، عبدالرحمان عرف بھولا کا ملوث ہونے کا اعتراف، حماد صدیقی ماسٹر مائنڈ قرار ‘‘


سانحہ بلدیہ کے مرکزی ملزم نے اعتراف کیا کہ ’’حماد صدیقی نے آگ لگانے والوں کو امدادی کاموں میں حصہ لینے کی ہدایت کی جبکہ فیکٹری میں آگ لگانے کی ذمہ داری زبیر چریا کے سپرد کی گئی تھی‘‘۔

خیال رہے عدالت نے حماد صدیقی کو مفرور قرار دیتے ہوئے اُس کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں جس کے بعد پاکستان کی حکومت نے دبئی میں مقیم حماد صدیقی کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرلیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں: ’’ حماد صدیقی کی قانونی مدد کو فرض سمجھتے ہیں، رہنما پاک سرزمین پارٹی ‘‘


عبدالرحمان بھولا کو بھی انٹرپول کے ذریعے تھائی لینڈ سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیاگیا تھا، گزشتہ سماعت پر سانحہ بلدیہ کے ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے روتے ہوئے جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیاہے جبکہ عدالت کی جانب سے حماد صدیقی کو سانحہ بلدیہ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی کے رہنما انیس احمد ایڈوکیٹ نے رحمان بھولا اعترافی بیان کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے حماد صدیقی کا دفاع کیا اور انہیں پارٹی کی جانب سے مکمل قانونی مدد فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔


اسی سے متعلق: ’’ ایم کیو ایم کا سابق ذمہ دارحماد صدیقی گھوسٹ ملازم نکلا ‘‘


انیس ایڈوکیٹ نے کہا کہ ’’حماد صدیقی واقعے میں ملوث نہیں تھا، وہ میرے رابطے میں ہے ہردوسرے روز فون پر بات چیت ہوتی ہے اُسے مفرور قرار دینا مضحکہ خیز بات ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں