The news is by your side.

Advertisement

پیپلزپارٹی دھرنے سے وزیراعظم کو فارغ کرنے کا نہیں کہتی، سینیٹر رحمان ملک

اسلام آباد : پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی دھرنے سے وزیر اعظم کو فارغ کرنے کا نہیں کہتی، مجھے تو آزادی مارچ پارلیمنٹ ہاؤس سے نظر نہیں آرہا۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے استعفے کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہی۔

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے متعلق پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ اس طرح کے دھرنے اوراحتجاج ہمیشہ سرپرائز کے ساتھ ختم ہوتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ آئندہ دو دنوں میں یہ دھرنا شاید بالکل بھی نظر نہ آئے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا مذہبی کارڈ پر شروع ہوا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اختتام مذہبی کارڈ پر ہوتا ہے یا سیاسی کارڈ پر؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے ہی خبردارکردیا تھا کہ مذہبی کارڈ کا استعمال نہ کیا جائے، پیپلز پارٹی بحیثیت سیاسی جماعت ہم آزادی مارچ کے ساتھ ابتدا سے ہیں لیکن پارٹی نے ابتدا ہی میں یہ واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ کسی بھی دھرنے میں ساتھ نہیں دے گی۔

علاوہ ازیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اراکین اسمبلی نے میڈیا کو اپنے تاثرات کے اظہار میں وزیراعظم کے استعفے کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی گاڑی چلتی رہنی چاہیے۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ استعفے اور انتخابات کے مطالبات کا جوازنہیں بنتا۔ سینیٹرسرفرازبگٹی نے کہا کہ ہم ایسے مطالبات کی نفی کرتے ہیں۔

عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ بچوں کو اسکول، مریضوں کواسپتال جانے سے روکنا ناجائز ہے، روبینہ خورشید کا کہنا تھا کہ ملک کا بیڑہ غرق کرنے سے بہتر ہے کہ حکمران چلےجائیں۔

سینیٹرسرفرازبگٹی نے کہا کہ ہم ایسے مطالبات کی نفی کرتے ہیں، غوث محمد خان نے کہا کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان سے اختلاف ہے سڑکوں پر مظاہروں سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں